اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 51
اصحاب بدر جلد 5 ابتدائی اسلام قبول کرنے والے 51 یہ جو بیان ہوا تھا کہ ان کے حلیف تھے اس حلیفانہ تعلق کے باعث حضرت عمر اور حضرت عامر میں آخر وقت تک دوستانہ تعلقات قائم رہے۔یہ بالکل ابتداء میں ایمان لے آئے تھے۔جب ایمان لائے اس وقت تک رسول کریم صلی ا ہم ابھی دارِ ارقم میں پناہ گزین نہیں ہوئے تھے۔142 ان کی اہلیہ کو سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والی عورت کا اعزاز حاصل ہے حضرت عامر اپنی بیوی لیلی بنت ابی حقمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔پھر اس کے بعد مکہ لوٹ آئے۔وہاں سے اپنی بیوی کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔حضرت عامر بن ربیعہ کی اہلیہ کو سب سے پہلے مدینہ ہجرت کرنے والی عورت کا اعزاز حاصل ہے۔تمام غزوات میں شامل آپ بدر اور تمام غزوات میں رسول کریم صلی علیکم کے ساتھ تھے۔آپ کی وفات 32 ہجری میں ہوئی۔آپ قبیلہ عنز سے تھے۔حضرت عامر بیان کرتے ہیں کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص تم میں سے جنازہ کو دیکھے اور اس کے ساتھ جانانہ چاہے تو چاہئے کہ کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ وہ جنازہ اسے پیچھے چھوڑ دے یار کھ دیا جائے۔عبد اللہ بن عامر اپنے والد حضرت عامر سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک رات نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ حضرت عثمان کی بابت اختلاف کر رہے تھے۔اس وقت فتنہ کا آغاز ہو گیا تھا اور حضرت عثمان پر طعن کرتے تھے تو کہتے ہیں کہ نماز کے بعد وہ سو گئے تو خواب میں انہوں نے دیکھا کہ انہیں کہا گیا کہ اٹھ اور اللہ سے دعا مانگ کہ تجھے اس فتنہ سے نجات دے جس سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نجات دی ہے۔چنانچہ حضرت عامر بن ربیعہ اٹھے اور انہوں نے نماز پڑھی اور بعد اس کے اسی حوالے سے دعامانگی۔چنانچہ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئے اور پھر وہ خود گھر سے نہیں نکلے۔ان کا جنازہ ہی نکلا۔143 اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فتنہ سے بچنے کی یہ صورت بنائی۔حضرت عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں طواف کے دوران رسول کریم صلی الی ایم کے ساتھ تھا رسول کریم صلی اللی کم کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ گیا۔میں نے عرض کی یارسول اللہ مجھے دیں میں ٹھیک کر دیتا ہوں۔144 رسول کریم صلی علیم نے فرمایایہ ترجیح دینا ہے اور میں ترجیح دیئے جانے کو پسند نہیں کرتا۔اس حد تک آنحضرت صلی ام اس بات پر particular تھے کہ اپنے کام خود کرتے ہیں۔