اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 520
اصحاب بدر جلد 5 520 برکت سے اس سے زیادہ افضل طور پر مصائب کو رفع کر دیتا ہے بجائے اس کے کہ ان سے عملی طور پر مدد لی جائے لیکن بہر حال مجبوریوں کی وجہ سے شامل بھی ہوئے تھے لیکن حضرت عمر کی رائے اس کے برعکس تھی وہ بدری صحابہ مولشکر وغیرہ میں استعمال فرمالیا کرتے تھے۔بہر حال اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تیرہ ہزار تھی جبکہ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک شخص نَهَارُ الرِّجَالِ بِن عُنْفُوَذْ تھا جو رسول اللہ صلی کم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں قرآن کریم اور دین کے مسائل سیکھے۔رسول اللہ صلی علیم نے اسے اہل یمامہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا تا کہ وہ مسیلمہ کذاب کے دعوئی نبوت کی تردید کرے۔وہاں جا کر مرتد ہو گیا اور اس بات کی شہادت دی کہ میں نے رسول اللہ صلی للی کم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، جھوٹی گواہی ایک دے دی کہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا ہے کہ مسیلمہ کو میرے ساتھ نبوت میں نعوذ باللہ شریک کر دیا گیا ہے۔بہر حال جب یہ مرتد ہوتے ہیں پہلے بھی اور آج بھی اسی طرح غلط الزام اور جھوٹی باتیں منسوب کرنا ایسے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔بہر حال مسیلمہ کے قبیلہ بنو حنیفہ پر اس شخص کے ارتداد کا مسیلمہ کے دعوی کی نسبت سے کہیں زیادہ برا اثر پڑا کیونکہ یہ تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا اور اس کے زیر اثر بھی لوگ تھے۔جب اس نے یہ باتیں کہیں، مسیلمہ کے دعوئی نبوت کا تو اتنا اثر نہیں تھا لیکن اس کی باتوں سے لوگوں نے اثر لینا شروع کر دیا۔اس کی گواہی کو سب نے تسلیم کیا اور نتیجہ مسیلمہ کی اطاعت کرلی اور اس سے کہا کہ تم نبی صلی الی نظم کو خط لکھو۔اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں تو ہم پھر اس کے مقابلے میں تمہاری مدد کریں گے۔ان کی طرف سے یہ بغاوت کا اعلان ہی دراصل جنگ کی اصل وجہ تھی۔جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ حضرت خالد قریب آگئے ہیں، اس جنگ کا جو واقعہ بیان کیا جارہا ہے، حضرت خالد کو بھیجنے کا ، حضرت ابو بکر نے جو بھیجا تھا تو اب آگے یوں ذکر ملتا ہے کہ حضرت خالد کے متعلق جب معلوم ہوا کہ قریب آگئے ہیں تو اس نے عُقر با مقام پر اپنا پڑاؤ ڈالا اور لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔لوگ بہت بڑی تعداد میں اس کی طرف آنے لگے۔اسی دوران مجاعه بن مُرارہ ایک گروہ کے ساتھ باہر نکلا تو مسلمانوں نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو پکڑ لیا۔حضرت خالد نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور مُجاعہ کو زندہ رکھا۔یہ جنگ کے لیے نکلے تھے کیونکہ قبیلہ بنو حنیفہ میں اس کی بہت عزت ہوتی تھی۔ان کے لیڈر کو نہیں مارا، قیدی بنالیا۔مسیلمہ کے بیٹے شتر خبیل نے بنو حنیفہ کو انگیخت کرتے ہوئے کہا کہ آج حمیت دکھانے کا دن ہے۔جب اس کو پکڑا گیا تو مسیلمہ کے بیٹے نے ان کے اس قبیلے کو انگیخت کرائی کہ اگر آج تم نے شکست کھائی تو تمہاری عور تیں لونڈیاں بنالی جائیں گی اور بغیر نکاح کے ان سے نفع اٹھایا جائے گا لہذا آج تم اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے پوری جواں مردی دکھاؤ اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔بہر حال جنگ شروع ہوئی۔مہاجرین کا جھنڈ ا حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ کے پاس تھا جبکہ اس سے قبل وہ عبد اللہ بن حفص