اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 516
اصحاب بدر جلد 5 ایک جنازے کا احترام 516 حضرت یزید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی الی نام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ ظاہر ہوا۔اس پر رسول اللہ صلی لی کم کھڑے ہو گئے اور جو آپ صلی علیم کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے۔وہ سب کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ جنازہ گزر گیا۔3 یہی واقعہ ایک اور روایت میں تفصیل کے ساتھ اس طرح بیان ہوا ہے۔1203 حضرت یزید بن ثابت سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی علیکم کے پاس صحابہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ ظاہر ہوا۔جب رسول اللہ صلی علیم نے اسے دیکھا تو آپ جلدی سے کھڑے ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی تیزی سے کھڑے ہو گئے۔وہ تب تک کھڑے رہے جب تک جنازہ گزر نہ گیا۔حضرت یزید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی تکلیف یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے اور میر اخیال ہے کہ وہ کسی یہودی مرد یا عورت کا جنازہ تھا اور ہم نے آپ سے آپ کے کھڑے ہونے کی وجہ بھی دریافت نہ کی۔1204 جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے فوت ہو اس کی خبر مجھے ضرور دو پھر حضرت یزید بن ثابت سے ایک اور روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ نکلے۔یہ سنن نسائی کی ہے۔حضرت یزید بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی نام کے ساتھ نکلے۔آپ نے ایک نئی قبر دیکھی ( یہ ایک اور واقعہ ہے۔ایک دوسرا واقعہ بیان ہو رہا ہے) کہتے ہیں ہم رت صلی ال نام کے ساتھ نکلے۔آپ نے ایک نئی قبر د یکھی تو فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ فلاں قبیلے کی لونڈی کی قبر ہے تو رسول اللہ صلی علیم نے اسے پہچان لیا۔صحابہ نے عرض کی کہ وہ دو پہر کے وقت فوت ہوئی تھی اور آپ اُس وقت قیلولہ فرمارہے تھے۔ہم نے آپ کو اس وجہ سے اٹھانا پسند نہیں کیا کہ آپ آرام کر رہے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی کم کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں یعنی اس قبر کے اوپر ہی آپ نے صفیں بنوا کے جنازہ پڑھا۔پھر فرمایا کہ جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے فوت ہو اس کی خبر مجھے ضرور دو کیونکہ میری دعا 1205 اس کے لیے رحمت ہے۔اسی طرح یہ روایت مسلم اور سنن ابو داؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔ابن ماجہ میں اس طرح تفصیلاً بیان ہوا ہے کہ حضرت یزید بن ثابت نے بیان کیا اور وہ زید سے بڑے تھے کہ ہم نبی کریم صلی الم کے ساتھ نکلے۔جب آپ جنت البقیع میں پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر تھی۔آپ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔انہوں نے عرض کیا کہ یہ فلاں عورت ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا تم نے مجھے اس کے متعلق کیوں خبر نہ دی۔انہوں نے عرض کیا کہ آپ دو پہر کو آرام فرمارہے تھے۔آپ روزے سے بھی تھے۔ہم نے پسند نہ کیا کہ آپ کو تکلیف دیں۔اس پر آپ صلی تنظیم نے فرمایا کہ ایسا فعل