اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 509

اصحاب بدر جلد 5 509 خیال ہے کہ عین ممکن ہے کہ جن اشعار کا ذکر حضرت عائشہ سے بیان کردہ روایت میں ہے ، جو میں نے پڑھی ہے۔ان کا تعلق آنحضرت صلی علیکم کے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت سے ہو کیونکہ اس وقت ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مقام پر لوگوں اور بچوں نے آنحضرت صلی یی کم کا استقبال کیا تھا کیو نکہ ملک شام کی جانب سے آنے والوں کا استقبال اسی جگہ سے کیا جاتا تھا۔جب اہل مدینہ کو نبی کریم ملی ایم کی غزوہ تبوک سے واپسی کا علم ہوا تو وہ خوشی سے نبی کریم صلی یی کم کا استقبال کرنے کے لیے مدینے سے باہر اس مقام پر نکلے جیسا کہ حضرت سائب بن یزید بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں بھی دوسرے بچوں کے ساتھ اس وقت آنحضور صلی علیہ علم کا استقبال کرنے ثَنِيَّةُ الْوَدَاع گیا تھا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔امام بیہقی نے بھی یہ بیان کیا ہے کہ بچوں نے نبی کریم صلی علیکم کا ان اشعار کے ذریعہ استقبال کیا تھا جب نبی کریم صلی علیکم غزوہ تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تھے۔1174 بہر حال مؤرخین اور سیرت نگاروں کی دونوں قسم کی آرا موجود ہیں یعنی بعض کے نزدیک یہ نبی کریم صلی الہ یکم کی ہجرت مدینہ کے وقت اور بعض کے نزدیک غزوہ تبوک سے واپسی پر یہ اشعار پڑھے گئے تھے۔آنحضرت مصل الم کی سنت تھی کہ جب کسی سفر سے مدینہ واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں پہنچ کر دور کعت نماز ادا کرتے۔چنانچہ جب آپ تبوک سے واپس تشریف لائے تو مدینہ میں چاشت کے وقت داخل ہوئے اور پہلے مسجد میں دور کعت نماز ادا کی۔1175 نماز کے بعد آپ لوگوں کے لیے مسجد میں تشریف فرما ہوئے اس کے بعد دو نفل پڑھنے کے بعد وہیں بیٹھ گئے اور اس وقت وہ لوگ بھی آپ سے ملنے کے لیے آئے جو عمد ا پیچھے رہ گئے تھے۔وہ جو بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کے پیچھے رہنے والے تھے وہ آپ کے سامنے اپنا کوئی نہ کوئی عذر پیش کرتے۔ایسے لوگوں کی تعداد جو تھی اتنی کے قریب تھی۔آپ صلی للی یکم ان کے عذروں کی حقیقت جانتے ہوئے بھی یہ جانتے تھے کہ یہ غلط عذر کر رہے ہیں اس کے باوجود ان کے ظاہری بیانات کو قبول فرماتے اور ان سے در گذر فرماتے رہے اور ان کی بیعت بھی لیتے رہے اور ان کے لیے استغفار بھی کرتے رہے۔1176 لیکن جیسا کہ پہلے تفصیلی ذکر ہو چکا ہے حضرت هلال بن امیہ حضرت مرارہ بن ربیع “ اور حضرت کعب بن مالک نے کوئی جھوٹا عذر نہیں کیا اور اس کی وجہ سے کچھ عرصہ آنحضرت صلی للی کم کی ناراضگی کو برداشت کیا۔بڑے روتے رہے، گڑ گڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے ہوئے جھکے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان بھی فرما دیا۔177