اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 508
اصحاب بدر جلد 5 508 یہ لوگ ایسے تھے جن کا عذر بھی جائز تھا اور ان کا مرض تھا یا کوئی وجہ بن گئی جس کی وجہ سے باوجو د خواہش کے وہ نہیں جا سکے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ساتھ ہی رکھا۔مدینہ اور انصار سے محبت کا اظہار تبوک سے واپسی کے سفر میں ایک موقعے پر رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا کہ میں جلدی جارہا ہوں۔پس تم میں سے جو چاہے میرے ساتھ جلدی چلے اور جو چاہے ٹھہر جائے یعنی آرام سے پیچھے آتا رہے۔راوی کہتے ہیں پھر ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہمیں مدینہ دکھائی دیا تو حضور صلی الم نے فرمایا یہ طائبہ ہے یعنی پاکیزہ اور خوشگوار اور یہ احد ہے یہ ایسا پہاڑ ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔پھر آپ صلی لیلی کلم نے فرمایا کہ انصار کے گھروں میں بہترین گھر بنو نجاز کا گھر ہے۔پھر بنو عبد الاشھل کا گھر ہے پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کا گھر ہے۔پھر بنو سَاعِدہ کا گھر اور آپ نے انصار کے سب گھروں کو اچھا قرار دیا۔حضرت سعد بن عبادہ ہم سے آملے۔راوی بیان کر رہے ہیں تو ابو اسید نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے انصار کے گھروں کی فضیلت بیان کی ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے۔حضرت سعد رسول اللہ صلی علیم کے پاس گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ نے انصار کے گھروں کی فضیلت بیان کی ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے۔اس پر حضور صلی الی یکم نے فرمایا کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تم خیر والوں میں سے ہو ؟ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔1173 جنگ تبوک سے واپسی پر اہل مدینہ کا والہانہ استقبال واپسی پر آنحضرت صلی الی یوم کے استقبال کے لیے مدینہ کے لوگ کیا مرد اور کیا عور تیں اور کیا بچے مدینے سے باہر ثَنِيَّةُ الْوَدَاع کے پاس آئے، وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مدینہ کے قریب ایک مقام ہے اور مدینہ سے مکہ جانے والوں کو اس مقام تک آکر الوداع کہا جاتا تھا۔اس لیے اس کو ثنيّةُ الوداع کہتے تھے۔مؤرخین، سیرت نگاروں کے نزدیک جب آنحضرت صلی الم نے مکے سے ہجرت کر کے جب آپ قبا کی طرف سے مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے اس جانب بھی ثَنِيَّةُ الْوَدَاع تھی۔حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق وہاں مدینہ کے بچوں نے آپ کا استقبال کیا اور لڑکیاں یہ گار ہی تھیں کہ: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِن ثَنِيَّاتِ الْوَدَاع وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَى لِلهِ دَاع کہ چودھویں کی رات کا چاند ہم پر ثنیہ الوداع کی جانب سے طلوع ہوا۔ہم پر اللہ کا شکر واجب ہو گیا ہے جب تک کہ اللہ کا کوئی نہ کوئی پکارنے والا ر ہے گا۔کچھ شارحین حدیث جیسے علامہ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری ہیں۔بخاری کی شرح لکھی ہے۔ان کا