اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 501
اصحاب بدر جلد 5 501 تین کو جیسے حضرت هلال بن امیہ کی بیوی کو اس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔اس کو مل گئی تو تمہیں بھی مل جائے گی۔میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں تورسول اللہ صلی اللہ کم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی یکم مجھے اس کے بارے میں کیا جواب دیں۔حضرت ھلال تو بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان آدمی ہوں۔اس کے بعد کہتے ہیں میں دس راتیں اور ٹھہر ارہا یہاں تک کہ ہمارے لیے پچاس را تیں اس وقت سے پوری ہو ئیں کہ جب رسول اللہ صلی علیم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔اے کعب بن مالک ! تمہیں بشارت ہو ! جب پچاسویں رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا اور اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے یعنی میری جان مجھ پر تنگ ہو چکی فی اور زمین بھی باوجو د کشادہ ہونے کے مجھ پر تنگ ہو گئی تھی تو اس اثنا میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر ، جو مدینہ کے شمالی جانب ایک پہاڑ کا نام ہے ، وہاں چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک ! تمہیں بشارت ہو ا کہتے ہیں میں یہ سن کر سجدے میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہو گئی ہے۔اگر اس نے جو مجھے پکارا ہے ، بشارت دی ہے تو یقینا میری بریت کا کوئی سامان ہو گیا ہے، مصیبت دور ہو گئی ہے اور رسول اللہ صلی علیکم جب فجر کی نماز پڑھ چکے تو آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا ہے۔یہ سن کر لوگ ہمیں خوش خبری دینے لگے اور میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوش خبری دینے والے گئے یعنی حضرت ھلال اور دوسرے ساتھی کی طرف اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا۔اسلم قبیلے کا ایک شخص دوڑا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اس کو پہنائے اس لیے کہ اس نے مجھے بشارت دی تھی۔اور اللہ کی قسم ! اس وقت اس کے سوا میرے پاس اور کچھ تھا نہیں۔جو میرے پاس اس وقت تھاوہ دو کپڑے تھے اور میں نے دو اور کپڑے عاریتا لیے۔کسی سے مانگے پھر اور انہیں پہنا اور رسول اللہ صلی علیم کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک باد دیتے۔کہتے تھے کہ تمہیں مبارک ہو جو اللہ نے تم پر رحم کر کے توبہ قبول کی ہے۔حضرت کعب کہتے تھے کہ آخر میں مسجد پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ کی ملی یکم بیٹھے ہیں اور آپ کے ارد گرد لوگ ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اٹھ کر نہیں آیا اور طلحہ کی یہ بات