اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 500

اصحاب بدر جلد 5 500 السلام علیکم کہا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ابو قتادہ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے۔پھر ان سے پوچھا اور ان کو قسم دی تو وہ پھر خاموش رہے۔پھر تیسری دفعہ ان سے پوچھا اور انہیں قسم دی مگر انہوں نے پھر کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں کہ محبت رکھتے ہو یا نہیں رکھتے۔یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔میں وہاں سے دیوار پھلانگ کر پھر چلا آیا۔غسان کے بادشاہ کا خط جو تنور میں پھینک دیا پھر حضرت کعب کہتے تھے کہ اس اثنا میں کہ میں مدینے کے بازار میں چلا جار ہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کے نبطیوں میں سے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لیے آئے ہوئے تھے ایک نبطی کہہ رہا تھا کہ کعب بن مالک کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارے سے بتانے لگے۔جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے عثمان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔اس میں یہ مضمون تھا کہ اما بعد مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کر کے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا جہاں ذلّت ہو اور تمہیں ضائع کر دیا جائے۔تم ہم سے آکر ملو۔ہم تمہاری خاطر مدارات کریں گے۔کہتے ہیں جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا یہ بھی ایک آزمائش ہے۔میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں اس کو ڈال دیا۔جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی علی کم کا پیغام لانے والا میرے پاس آرہا ہے۔اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی لی تم تم سے فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔میں نے پوچھا کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا کہ اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔آپ صلی الی یکم نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی، دوسرے جو دو ساتھی تھے، ( حضرت ھلال اور مُراره) ان کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انھیں کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔حضرت کعب کہتے تھے کہ پھر هلال بن امیه کی بیوی رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئی۔جن صحابی کا میں یہ ذکر بیان کر رہا ہوں ان کی بیوی آئیں اور کہنے لگیں یار سول الله هلال بن امیہ بہت بوڑھا ہے۔اس کا کوئی ملازم نہیں ہے۔اگر میں اس کی خدمت کروں تو آپ ناپسند تو نہیں فرمائیں گے۔آپ صلی الیم نے فرمایا نہیں ٹھیک ہے خدمت کرتی رہو۔کھانا پکانا، گھر کا کام کرنا وہ کرتی رہو لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔کہنے لگی کہ اللہ کی قسم! اس کو تو کسی بات کی تحریک ہی نہیں ہوتی۔اللہ کی قسم ! وہ اس دن سے آج تک رورہا ہے۔اس نے کیا کہنا ہے۔جب سے اس کو سزا ملی ہے ، مقاطعہ ہوا ہے، جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ تو اس دن سے بیٹھا رو رہا ہے۔حضرت کعب کہتے ہیں کہ میرے بعض رشتے داروں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی رسول اللہ صلی علیم سے اپنی بیوی کے متعلق ایسی ہی اجازت رض