اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 493
493 اصحاب بدر جلد 5 گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت نعمان نے ان کی باتوں میں آکے اونٹ ذبح کر دیا اور جب بد و باہر نکلا اور اپنی سواری کو اس حالت میں دیکھا تو شور مچانے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اونٹ ذبح ہو گیا ہے۔نبی کریم صلی علیکم باہر تشریف لائے اور فرمایا یہ کس نے کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا نعمان نے۔یہ کرنے کے بعد نعمان وہاں سے چلے گئے۔کہیں جا کے چھپ گئے تو آپ ان کی تلاش میں نکلے۔بہر حال نبی کریم صلی للی نام ان کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ انہیں حضرت ضُباعه بنت زبیر بن عبد المطلب کے ہاں چھپا ہوا پایا۔جہاں وہ چھپے ہوئے تھے وہاں ایک شخص نے اپنی انگلی سے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اونچی آواز میں کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کہیں نظر نہیں آرہا۔بہر حال آپ صلی لی ہم نے اسے وہاں سے نکالا اور فرمایا کہ یہ حرکت تم نے کیوں کی ہے ؟ تو نعمان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !جن لوگوں نے آپ کو میرے بارے میں خبر دی ہے کہ میں نے یہ ذبح کیا، انہوں نے ہی مجھے اس پہ اکسایا تھا۔انہوں نے ہی مجھے کہا تھا اور یہ بھی کہ رسول اللہ صلی علیہ کمی بعد میں اس کا تاوان دے دیں گے ، قیمت ادا کر دیں گے۔تو رسول اللہ صلی علی رام نے یہ بات سن کے نعمان کے چہرے کو چھوا، اپنا ہاتھ لگایا اور مسکرانے لگے اور آپ نے اس بدو کو اس اونٹ کی قیمت ادا کر دی۔10 1150 محبت کا ایک منفر د دلچسپ انداز زبير بن بكار اپنی کتاب الفكاهة والمزاح میں حضرت نعمان کے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مدینے میں جب بھی کوئی پھیری والا داخل ہوتا، باہر سے کوئی تاجر کوئی چیز لے کر آتا تو حضرت نعمان اس سے رسول اللہ صلی علیم کے لیے کوئی چیز خرید لیتے اور وہ لے کر آپ صلی للہ یکم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور یہ عرض کرتے کہ آپ کے لیے میری طرف سے تحفہ ہے۔جب اس چیز کا مالک حضرت نعمان سے اس کی قیمت لینے کے لیے آتا۔وہاں پھر رہے ہوتے تھے۔بتادیتے تھے کہ میں وہاں رہتا ہوں۔بعد میں قیمت بھی لے لیتے تھے۔واقف ہوتے تھے۔بہر حال جب وہ قیمت لینے آتا تو وہ اسے نبی کریم صلی ال نیم کے پاس لے آتے اور عرض کرتے کہ اسے اس کے مال کی قیمت ادا کر دیں۔یہ چیز جو میں نے خریدی تھی اور آپ کو دی تھی اس کی قیمت ادا کر دیں۔اس پر آپ صلی ال ام فرماتے کہ کیا تم نے یہ چیز مجھے بطور تحفہ نہیں دی تھی تو وہ کہتے یار سول اللہ ! اللہ کی قسم ! میرے پاس اس چیز کی ادائیگی کے لیے کوئی رقم نہیں تھی تاہم میر اشوق تھا کہ اگر وہ کھانے کی چیز ہے تو آپ اسے کھائیں۔رکھنے کی چیز ہے تو آپ اسے رکھیں۔اس پر آپ صلی ال یکم مسکرانے لگتے اور اس چیز کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنے کا حکم فرماتے۔1151 تھیں۔تو یہ عجیب پیار اور محبت اور مزاح کی مجلسیں ہوا کرتی تھیں۔یہ صرف خشک مجلسیں نہیں ہوتی 1152