اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 492

اصحاب بدر جلد 5 492 ہوں۔سُوَيْبظ جو ان کے ساتھی تھے ان کی طبیعت میں مزاح تھا بلکہ بعض روایات سے پتا لگتا ہے کہ دونوں ہی، حضرت نعمان بھی اور حضرت سُوَيْبظ بھی آپس میں بڑے بے تکلف تھے ، مذاق کیا کرتے تھے اور ان کی طبیعت میں مزاح تھا۔تو انہوں نے سفر کے دوران نعمان سے کہا کہ مجھے کھانا کھلاؤ۔انہوں نے جواب دیا کہ جب تک حضرت ابو بکر نہیں آئیں گے ، جو کہیں باہر گئے ہوئے تھے ، کھانا نہیں دوں گا۔سُوئبظ نے اس پر کہا کہ اگر تم نے مجھے کھانا نہ دیا تو پھر میں ایسی باتیں کروں گا جس پر تمہیں غصہ آئے۔راوی نے کہا کہ ان کا اس دوران ایک قوم کے پاس سے گزر ہوا تو سویبظ نے ان سے کہا کہ کیا تم مجھ سے میرا ایک غلام خریدو گے۔بہر حال کچھ وقفے کے بعد چند دنوں کے بعد یا کچھ سفر میں چلتے چلتے ہی اس وقت یہ ذکر ہو گا۔تو اس قوم کو حضرت سُوئبظ نے کہا کہ میرے سے غلام خریدو گے۔قوم نے کہا ہاں خریدیں گے تو سویبط نے اس پر ان کو کہا کہ وہ بڑا بولنے والا ہے اور یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں اور جب وہ تمہیں یہ بات کہے کہ تم اس کو چھوڑ دو تو پھر یہ نہ ہو کہ تم میرے غلام کو خراب کرنا۔انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ ہم اسے تجھ سے خریدنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اسے دس اونٹنیوں کے عوض خرید لیا۔پھر وہ لوگ نعیمان کے پاس آئے اور ان کے گلے میں پگڑی یارسی ڈالی تاکہ غلام بنا کے لے جائیں۔نعیمان ان سے بولے کہ یہ شخص تم سے مذاق کر رہا ہے میں تو آزاد ہوں۔غلام نہیں ہوں۔انہوں نے جواب دیا کہ اس نے تمہارے بارے میں پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا۔بہر حال وہ زبر دستی انہیں ساتھ لے گئے۔جب حضرت ابو بکر صدیق آئے اور لوگوں نے اس کے متعلق بتایا تو پھر آپ ان لوگوں کے پیچھے گئے، اس قوم کے پیچھے گئے اور ان کو اونٹنیاں واپس دیں اور نعمان کو واپس لے آئے۔راوی نے بتایا کہ جب یہ لوگ واپس نبی کریم صلی علیہ کم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی ایام اور آپ کے صحابہ اس سے بہت محظوظ ہوئے۔بڑا ہنسے اور ایک سال تک ان میں یہ لطیفہ بنا رہا۔1148 بعض جگہ بعض کتابوں میں اس فرق کے ساتھ یہ واقعہ ملتا ہے کہ فروخت کرنے والے حضرت سویبط نہیں تھے بلکہ حضرت نعمان تھے۔1149 بہر حال دونوں کے بارے میں ہی یہ روایت آتی ہے۔حضرت نعمان کے بارے میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ ان کی طبیعت میں بھی مزاح پایا جاتا تھا۔چنانچہ نبی کریم صلی للی کم ان کی باتیں سن کر محظوظ ہوا کرتے تھے۔ربيعه بن عثمان سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کے پاس ایک بند و آیا اور مسجد میں داخل ہو کر اس نے اپنے اونٹ کو صحن میں بٹھا دیا۔اس پر بعض صحابہ نے حضرت نعمان سے کہا کہ اگر تم اس اونٹ کو ذبح کر دو تو ہم اسے کھائیں گے کیونکہ ہمیں گوشت کھانے کا بڑا دل کر رہا ہے۔اور بہر حال یہ بدو کا اونٹ ہے تو رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس جب شکایت ہو گی تو پھر رسول اللہ صل ال علم اس کا تاوان ادا کر دیں