اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 439

439 اصحاب بدر جلد 5 روایت میں عفراء کے ایک بیٹے کا ذکر ہو اور راوی نے غلطی سے دو بیٹوں کا کہہ دیا ہو۔بہر حال ابو عمر کہتے ہیں کہ اس روایت کی نسبت حضرت انس بن مالک کی حدیث زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ ابن عفراء نے ابو جہل کو قتل کیا تھا یعنی عفراء کا ایک بیٹا تھا۔ابن تین کہتے ہیں کہ اس بات کا احتمال موجود ہے کہ دونوں معاذ یعنی معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفر الا ماں کی طرف سے بھائی ہوں یا دونوں رضاعی بھائی ہوں۔علامہ داؤدی نے عفراء کے دونوں بیٹوں سے مراد سہل اور سہیل لیے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ دونوں معوذ اور معاذ ہیں۔1016 بہر حال یہ روایتیں آتی ہیں کہ تین نے قتل کیا۔بعض میں دونے اور ان میں حضرت معاذ بن حارث کا بھی ذکر ملتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے غزوہ بدر کے جو حالات لکھے ہیں اور جس میں ابو جہل کے قتل کا واقعہ لکھا ہے اس کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ ”میدان کارزار میں کشت و خون کا میدان گرم تھا۔مسلمانوں کے سامنے ان سے سہ چند جماعت تھی۔“ تین گنا جماعت تھی جو ہر قسم کے سامانِ حرب سے آراستہ ہو کر اس عزم کے ساتھ میدان میں نکلی تھی کہ اسلام کا نام و نشان مٹادیا جاوے اور مسلمان بیچارے تعداد میں تھوڑے، سامان میں تھوڑے، غربت اور بے وطنی کے صدمات کے مارے ہوئے ظاہری اسباب کے لحاظ سے اہل مکہ کے سامنے چند منٹوں کا شکار تھے مگر توحید اور رسالت کی محبت نے انہیں متوالا بنارکھا تھا اور اس چیز نے جس سے زیادہ طاقتور دنیا میں کوئی چیز نہیں یعنی زندہ ایمان نے ان کے اندر ایک فوق العادت طاقت بھر دی تھی۔وہ اس وقت میدانِ جنگ میں خدمت دین کا وہ نمونہ دکھا رہے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ہر اک شخص دوسرے سے بڑھ کر قدم مارتا تھا اور خدا کی راہ میں جان دینے کے لیے بے قرار نظر آتا تھا۔حمزہ اور علی اور زبیر نے دشمن کی صفوں کی صفیں کاٹ کر رکھ دیں۔انصار کے جوش اخلاص کا یہ عالم تھا کہ عبد الرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ جب عام جنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی مگر کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے میرے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔انہیں دیکھ کر میرا دل کچھ بیٹھ سا گیا کیونکہ ایسے جنگوں میں دائیں بائیں کے ساتھیوں پر لڑائی کا بہت انحصار ہو تا تھا اور وہی شخص اچھی طرح لڑ سکتا ہے جس کے پہلو محفوظ ہوں۔مگر عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں اس خیال میں ہی تھا کہ ان لڑکوں میں سے ایک نے مجھ سے آہستہ سے پوچھا کہ گویاوہ دوسرے سے اپنی یہ بات مخفی رکھنا چاہتا ہے۔“ یہ چاہتا ہے کہ دوسرے کو پتا نہ لگے جو دوسری طرف کھڑا ہے کہ چاوہ ابو جہل کہاں ہے جو مکہ میں آنحضرت صلی علیہم کو دکھ دیا کرتا تھا۔میں نے خدا سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں اسے قتل کروں گا یا قتل کرنے کی کوشش میں مارا جاؤں گا۔میں نے ابھی اس کا جواب نہیں دیا تھا۔“عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابھی جواب نہیں دیا تھا۔کہ دوسری طرف سے دوسرے نے بھی اسی طرح آہستہ