اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 438
اصحاب بدر جلد 5 کون دیکھے گا کہ ابو جہل کا کیا حال ہوا ہے؟ 438 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیم نے جنگ بدر کے دن فرمایا کون دیکھے گا کہ ابو جہل کا کیا حال ہوا ہے ؟ حضرت ابن مسعودؓ گئے اور جا کر دیکھا کہ اس کو عفراء کے دونوں بیٹوں حضرت معاذ اور حضرت معوذ نے تلواروں سے اتنامارا ہے کہ وہ مرنے کے قریب ہو گیا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا کیا تم ابو جہل ہو ؟ حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو جہل کی داڑھی پکڑی۔ابو جہل کہنے لگا کیا اُس سے بڑھ کر بھی کوئی شخص ہے جس کو تم نے مارا ہے یا یہ کہا کہ اُس شخص سے بڑھ کر کوئی ہے جس کو اس کی قوم نے مارا ہو۔احمد بن یونس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ الفاظ کہے کہ تم ہی ابو جہل ہو ؟ یہ بھی بخاری کی حدیث ہے۔1014 بخاری کی جو روایت ہے اس حدیث کی شرح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب درج کرتے ہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں معوذ اور معاذ نے ابو جہل کو موت کے قریب پہنچا دیا تھا۔بعد ازاں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔بخاری کتاب المغازی میں یہ ہے۔علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ معاذ بن عمرو اور معاذ بن عفراء کے بعد معوذ بن عفراء نے بھی اس پر وار کیا ہو گا۔غزوہ بدر کے موقعے پر ابو جہل کے قتل میں کون کون شریک تھا۔اس کے بارے میں ایک جگہ 1015 تفصیل یوں ملتی ہے۔ابن ہشام نے علامہ ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ مُعاذ بن عمرو بن جموح نے ابو جہل کی ٹانگ کائی تھی جس کے نتیجے میں وہ گر گیا اور عکرمہ بن ابو جہل نے حضرت معاذ کے ہاتھ پر تلوار ماری جس کے نتیجے میں وہ ہاتھ یا باز و الگ ہو گیا۔پھر معوذ بن عفرار نے ابو جہل پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ نیچے گر گیا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق ابھی باقی تھی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا جب رسول اللہ صلی اللہ ہم نے انہیں مقتولین میں ابو جہل کو تلاش کرنے کا حکم دیا تھا۔یعنی جب آنحضرت صلی علیہ یکم نے ان کو حکم دیا تھا کہ ابو جہل کو مقتولین میں تلاش کریں تو اس وقت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا۔صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق عفراء کے دو بیٹوں نے ابو جہل پر حملہ کیا تھا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔اسی طرح بخاری میں باب قتل اپی جہل میں بھی ایسا ہی ذکر ہے۔امام قرطبی کے نزدیک یہ وہم ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابو جہل کو قتل کیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں پر معاذ بن عمرو بن جموح مشتبہ ہو گئے یعنی معاذ بن عفراء کی بجائے وہ معاذ بن عمرو بن جموح تھے جنہیں لوگ سمجھے کہ معاذ بن عفر ا ہیں۔کہتے ہیں معاذ بن عمرو بن جموع معاذ بن عفراء کے ساتھ مشتبہ ہو گئے ہیں۔علامہ ابن الجوزی کہتے ہیں کہ معاذ بن جموح، عفراء کی اولاد میں سے نہیں اور معاذ بن عفرا ابو جہل کو قتل کرنے والوں میں شامل تھا۔شاید معاذ بن عفراء کا کوئی بھائی یا چچا اس وقت موجود ہو یا