اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 404
اصحاب بدر جلد 5 404 آپس میں صلح کر لینی چاہیے۔آخر با ہمی مشورے سے یہ قرار پایا کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول جو خزرج کا سردار تھا اسے سارا مدینہ اپنا بادشاہ تسلیم کرلے۔یہودیوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اوس اور خزرج بائبل کی پیشگوئیاں سنتے رہتے تھے۔جب یہودی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کا حال بیان کرتے تو اس کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک نبی جو موسیٰ کا مثیل ہو گا ظاہر ہونے والا ہے۔اس کا وقت قریب آرہا ہے۔جب وہ آئے گا ہم پھر ایک دفعہ دنیا پر غالب ہو جائیں گے۔یہود کے دشمن تباہ کر دیے جائیں گے۔جب ان حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی علیم کے دعوی کو سنا آپ کی سچائی ان کے دلوں میں گھر کر گئی اور انہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔پس بہت سے نوجوان" یہ سن کر " محمد رسول اللہ صلی علیکم کی تعلیم کی سچائی سے متاثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں ان کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔" مددگار ہو گئیں۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی علیم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے۔منی میں وہ آپ سے ملے اور انہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ وہ۔سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے۔وہ چوری نہیں کریں گے۔وہ بدکاری نہیں کریں گے۔وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے۔وہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے۔نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔یہ لوگ واپس گئے تو انہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔مدینہ کے گھروں میں سے بت نکال کر باہر پھینکے جانے لگے۔بتوں کے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گر د نیں اٹھا کر چلنے لگے۔خدا کے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہ تھے۔یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ نہ پیدا کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پیدا کر دی۔توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کر تا جا تا تھا۔یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سیکھاؤ لیکن مدینہ کے نو مسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ ان کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتا سکیں۔اس لیے انہوں نے مکہ میں ایک آدمی بھجوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی علی نکم نے مُصْعَب نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لیے بھجوایا۔مُصْعَب تمہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔"922 ایک اور جگہ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ: "جب مدینہ والوں کو اسلام کی خبر ہوئی اور ایک حج کے موقعہ پر کچھ اہل مدینہ رسول کریم صلی الی کلیم سے ملے اور آپ کی صداقت کے قائل ہو گئے تو انہوں نے واپس جا کر اپنی قوم سے ذکر کیا کہ جس رسول کی آمد کا