اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 400
اصحاب بدر جلد 5 400 حضرت مصعب کی تبلیغی مساعی بہر حال حضرت مصعب پہلے مبلغ تھے۔حضرت مصعب " حضرت اسعد بن زرارہ کو ساتھ لے کر انصار کے مختلف محلوں میں تبلیغ کی غرض سے جاتے تھے۔حضرت مصعب کی تبلیغ سے بہت سے صحابہ مسلمان ہوئے جن میں کبار صحابہ مثلاً حضرت سعد بن معاذ، حضرت عباد بن بشر ، حضرت محمد بن مسلمه ، حضرت أسيد بن محضیر وغیرہ شامل تھے۔919 حضرت مصعب کی تبلیغی مساعی اور کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں بیان فرمایا ہے کہ: مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ کو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جاوے جو ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔آپ صلی تعلیم نے مصعب بن عمیر کو جو قبیلہ عبدالدار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مقر می کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ تھا۔چنانچہ مصعب بھی یثرب میں مقری کے نام سے مشہور ہو گئے۔مصعب نے مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا جو مدینے میں سب سے پہلے مسلمان تھے اور ویسے بھی ایک نہایت مخلص اور با اثر بزرگ تھے اور اسی مکان کو اپنا تبلیغی مرکز بنایا اور ا۔فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے اور چونکہ مدینہ میں مسلمانوں کو اجتماعی زندگی نصیب اور تھی بھی نسبتاً امن کی زندگی، اس لیے اسعد بن زرارہ کی تجویز پر آنحضرت صلی لی ہم نے مصعب بن عمیر کو جمعہ کی نماز کی ہدایت فرمائی۔اس طرح مسلمانوں کی اشتراکی زندگی کا آغاز ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگا اور اوس و خزرج بڑی سرعت کے ساتھ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔بعض صورتوں میں تو ایک قبیلے کا قبیلہ ایک دن میں ہی سب کا سب مسلمان ہو گیا۔چنانچہ بنو عبد الْأَشْهَل کا قبیلہ بھی اسی طرح ایک ہی وقت میں اکٹھا مسلمان ہوا تھا۔یہ قبیلہ انصار کے مشہور قبیلہ اوس کا ایک ممتاز حصہ تھا اور اس کے رئیس کا نام سعد بن معاذ تھا جو صرف قبیلہ بنو عبد الاشہل کے ہی رئیس اعظم نہ تھے بلکہ تمام قبیلہ اوس کے سردار تھے۔جب مدینہ میں اسلام کا چر چاہو تو سعد بن معاذ کو یہ برا معلوم ہوا اور انہوں نے اسے روکنا چاہا۔" اسلام لانے سے پہلے یہ سعد بن معاذ بڑے مخالف تھے۔" مگر اسعد بن زرارہ سے ان کی بہت قریب کی رشتہ داری تھی یعنی وہ ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے اور اسعد مسلمان ہو چکے تھے۔اس لیے سعد بن معاذ خود براہ راست دخل دیتے ہوئے رکتے تھے کہ کوئی بد مزگی پیدا نہ ہو جائے۔لہذا انہوں نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار اُسید بن الحضیر سے کہا کہ اسعد بن زرارہ کی وجہ سے مجھے تو کچھ حجاب ہے۔" مسلمان ہو گیا ہے اور اس کے ہاں تبلیغ کا ساتھ بھی دے رہا ہے۔" مگر تم جاکر مصعب کو روک دو۔" بجائے اسعد بن زرارہ کو