اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 378

870 378 اصحاب بدر جلد 5 جائز تھا؟ اس کا اور اس بات کی تیاری کر رہا تھا کہ غزوہ احزاب کی طرف عرب کے وحشی قبائل پھر متحد ہو کر مدینے پر دھاوا بول دیں۔عرب میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعہ دادرسی چاہی جاتی بلکہ ہر قبیلہ اپنی جگہ آزاد اور خود مختار تھا۔پس سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی تدبیر کی جاتی اور کوئی صورت نہیں تھی۔پچھلے خطبے میں اس کی یہ تفصیل بھی بیان ہو چکی ہے کہ کیوں کیا وجوہات تھیں ؟ حکومت کے ضمن میں، کوئی حکومت نہیں تھی اور جو حکومت تھی وہ آنحضرت علیل لی ایم کی اپنی تھی۔بہر حال ان حالات میں صحابہ نے جو کچھ کیا وہ بالکل درست اور بجا تھا اور حالتِ جنگ میں جب کہ ایک قوم موت و حیات کے ماحول میں سے گزر رہی ہو اس قسم کی تدابیر بالکل جائز سمجھی جاتی ہیں۔حضرت عمر کا اعتماد حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہ کو اپنے دورِ خلافت میں جھینہ قبیلہ سے وصولی زکوۃ کے لیے مقرر کیا تھا۔جب کبھی کسی عامل کے خلاف دربار خلافت میں شکایات موصول ہو تیں تو حضرت عمر تحقیق کے لیے انہیں روانہ کیا کرتے تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓ کو ان پر اعتماد تھا اس لیے سرکاری محاصل کی وصولی کے لیے بھی ان ہی کو ، حضرت محمد بن مسلمہ کو بھیجا جاتا تھا۔وہ حضرت عمرؓ کے ہاں مختلف علاقوں کے مشکل معاملات کو سلجھانے کے لیے مقرر تھے۔کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص نے محل تعمیر کیا تو اس کی چھان بین کے لیے حضرت عمرؓ کے نمائندے تھے۔اس کے متعلق روایت کچھ یوں ملتی ہے کہ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک محل بنایا ہے اور اس کا دروازہ رکھا ہے جس کی وجہ سے آواز سنائی نہیں دیتی۔چنانچہ آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ کو روانہ کیا اور حضرت عمر کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حسب منشا کوئی کام کرنا چاہتے تو ان ہی کو یعنی محمد بن مسلمہ کو روانہ کیا کرتے تھے۔حضرت عمر نے ان سے فرمایا سعد کے پاس پہنچ کر اس کا دروازہ جلا دینا۔چنانچہ وہ کوفہ پہنچے ، دروازے پر پہنچے تو چقماق نکالی، آگ سلگائی پھر دروازے کو جلا دیا۔حضرت سعد کو معلوم ہو ا تو وہ باہر تشریف لائے اور حضرت محمد بن مسلمہ نے انہیں ساری بات بتائی کہ میں نے کیوں جلایا ہے۔71 گوشہ نشینی اختیار کرنا حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت محمد بن مسلمہ کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور لکڑی کی تلوار بنوالی۔کہتے تھے کہ مجھے حضور صلی علیم نے یہی حکم دیا تھا۔حضرت محمد بن مسلمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے ایک تلوار تحفہ میں دی اور فرمایا کہ اس سے مشرکین سے جہاد کرنا جب تک وہ تم سے قتال کرتے رہیں اور جب تُو مسلمانوں کو دیکھے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں تو اسے یعنی تلوار کو کسی چٹان کے