اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 377
اصحاب بدر جلد 5 377 اوپر چلا گیا اور میں نے یہ احتیاط کی کہ جو دروازہ میرے راستہ میں آتا تھا اسے میں آگے گزر کر اندر سے بند کر لیتا تھا۔جب میں ابو رافع کے کمرے میں پہنچا تو اس وقت وہ چراغ بجھا کر سونے کی تیاری میں تھا اور کمرہ بالکل تاریک تھا۔میں نے آواز دے کر ابورافع کو پکارا۔جس کے جواب میں اس نے کہا۔کون ہے ؟ بس میں اس آواز کی سمت کا اندازہ کر کے اس کی طرف لپکا اور تلوار کا ایک زور دار وار کیا مگر اندھیرا بہت تھا اور میں اس وقت گھبرایا ہوا تھا اس لیے تلوار کا وار غلط پڑا اور ابورافع چیخ مار کر چلایا جس پر میں کمرے سے باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر بعد میں نے پھر کمرہ کے اندر جاکر اپنی آواز کو بدلتے ہوئے پوچھا۔ابورافع یہ شور کیسا ہوا تھا؟ اس نے میری بدلی ہوئی آواز کو نہ پہچانا اور کہا کہ تیری ماں تجھے کھوئے مجھ پر ابھی ابھی کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے۔میں یہ آواز سن کر پھر اس کی طرف لپکا اور تلوار کا وار کیا۔اس دفعہ وار کاری پڑا مگر وہ مر ا پھر بھی نہیں جس پر میں نے اس پر ایک تیسر اوار کر کے اسے قتل کر دیا۔اس کے بعد میں جلدی جلدی دروازے کھولتا ہو امکان سے باہر نکل آیا لیکن جب میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو ابھی چند قدم ہی باقی تھے کہ میں سمجھا کہ میں سب قدم اتر آیا ہوں جس پر میں اندھیرے میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پنڈلی کا جوڑ اتر گیا مگر میں اسے اپنی پگڑی سے باندھ کر گھستا ہوا باہر نکل گیا لیکن میں نے اپنے جی میں کہا کہ جب تک ابو رافع کے مرنے کا اطمینان نہ ہو جائے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔چنانچہ میں قلعے کے پاس ہی ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جب صبح ہوئی تو قلعہ کے اندر سے کسی کی آواز میرے کان میں آئی کہ ابو رافع تاجر حجاز وفات پا گیا ہے۔اس کے بعد میں اٹھا اور آہستہ آہستہ اپنے ساتھیوں میں آملا اور پھر ہم نے مدینہ میں آکر آنحضرت علی ایم کو ابو رافع کے قتل کی اطلاع دی۔آپ نے سارا واقعہ سن کر مجھے ارشاد فرمایا کہ اپنا پاؤں آگے کرو۔میں نے اپنا پاؤں آگے کیا تو آپ نے دعامانگتے ہوئے اس پر اپنا دست مبارک پھیر ا جس کے بعد میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں تھی۔ایک دوسری روایت میں ذکر آتا ہے کہ جب عبد اللہ بن عتیک نے ابورافع پر حملہ کیا تو اس کی بیوی نے نہایت زور سے چلانا شروع کیا جس پر مجھے فکر ہوا کہ اس کی چیخ و پکار سن کر کہیں دوسرے لوگ نہ ہوشیار ہو جائیں اس پر میں نے اس کی بیوی پر تلوار اٹھائی مگر پھر یہ یاد کر کے کہ آنحضرت صلی ہم نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے میں اس ارادے سے باز آگیا۔پھر سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ ابورافع کے قتل کے جواز کے متعلق ہمیں اس جگہ کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ابو رافع کی خون آشام کارروائیاں تاریخ کا ایک کھلا ہو اور ق ہیں اور اس سے ایک ملتے جلتے واقعہ میں ایک تفصیلی بحث کعب بن اشرف کے قتل کے ضمن میں بیان ہو چکی ہے۔اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے سارا ملک مسلمانوں کو مٹانے کے لیے متحد ہورہا تھا۔ایسے نازک وقت میں ابورافع عرب کے مختلف قبائل کو اسلام کے خلاف ابھار رہا تھا۔( یہ میں خلاصہ بیان کر رہا ہوں پوری تاریخ نہیں بیان کر رہا کہ کیوں اس کا قتل