اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 343
اصحاب بدر جلد 5 343 824 یہ علماء کی بحث چلتی ہی رہتی ہے۔حضرت مالک بن دخشم غزوہ بدر، احد، خندق اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی ایم کے ساتھ ہمرکاب رہے۔سہیل بن عمرو قریش کے بڑے اور باعزت سرداروں میں سے ایک تھے۔وہ جنگ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے اور ان کو حضرت مالک بن د ختم نے قیدی بنایا۔بدر کے قیدی کی جان بخشی روایت میں آتا ہے کہ عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے غزوہ بدر کے دن سہیل بن عمرو کو تیر مارا جس سے ان کی رگِ کٹ گئی تھی۔میں بہتے ہوئے خون کے دھبوں کے پیچھے چلتا گیا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مالک بن دخشم نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑا ہوا تھا۔میں نے کہا یہ میرا قیدی ہے۔میں نے اسے تیر مارا تھا۔لیکن حضرت مالک نے کہا کہ یہ میرا قیدی ہے میں نے اسے پکڑا ہے۔پھر وہ دونوں سہیل کو لے کر رسول اللہ صلی ال نیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی تعلیم نے سہیل کو ان دونوں سے لے لیا اور روحاء کے مقام پر سہیل حضرت مالک بن دحشم کے ہاتھ سے نکل گیا۔حضرت مالک نے لوگوں میں بلند آواز سے صدالگائی اور اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔نبی کریم صلی علی یم نے اس موقع پر فرمایا کہ جس کو بھی وہ ملے اسے قتل کر دیا جائے۔جنگ کے لئے آئے تھے۔مسلمانوں سے لڑائی کی تھی۔قیدی بنے تو وہاں سے نکل گئے۔دوبارہ خطرہ پیدا ہو سکتا تھا کہ بہر حال وہ جنگی قیدی تھا۔اس کے لئے حکم ہوا۔لیکن اس کی زندگی بچنی تھی۔سہیل بن عمرو بجائے کسی اور کو ملتا نبی کریم صلی اللہ ہم کو ہی ملا۔لیکن جب ملا تو نبی کریم صلی اللہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔اگر کیسی اور صحابی کے ہاتھ چڑھ جاتا تو وہ قتل کر دیتے۔لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی یکم کو ملا اس لئے آپ نے قتل نہیں کیا۔یہ اُسوہ ہے اور آپ کا یہ اُسوہ ان ظالموں کو جواب ہے جو آنحضرت ملی تم پہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ نے ظلم کیا اور قتل و غارت کی کہ قتل کا جو سزاوار تھا جس کے لئے فیصلہ بھی ہو چکا تھا وہ بھی جب کو نظر آیا تو آپ نے اسے قتل نہیں کیا۔ایک روایت کے مطابق سہیل نبی کریم صلی علم کو کیکر کے درختوں کے جھنڈ میں ملا تھا۔جس پر آپ نے حکم دیا کہ اس کو پکڑلو۔اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیئے گئے۔یعنی قید کر لیا گیا۔825 فرمایا یہ مت کہو کیا تم اسے نہیں دیکھتے کہ اس نے لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا ہے صحیح بخاری میں یہ روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالک جو کہ رسول اللہ صلی علیم کے ان انصاری صحابہ میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی علیم کے پاس آئے اور کہا یار سول اللہ ! میری بینائی کمزور ہو گئی ہے۔میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔جب بارشیں ہوتی ہیں تو اس نالے میں جو میرے اور ان کے درمیان ہے سیلاب آجاتا ہے اور میں ان کی مسجد میں آکر انہیں نماز نہیں پڑھا سکتا۔