اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 317
اصحاب بدر جلد 5 317 اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔آپ کی والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان تھا۔آپ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنوزھرہ سے تھا اور جیسا کہ ذکر ہو ابدر کی جنگ میں انہوں نے شرکت کی اور وہیں ان کی شہادت ہوئی۔آنحضور صلی الی یکم نے حضرت عمیر اور عمرو بن معاذ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔752 بعض کا خیال ہے کہ حضرت عمیر بن ابی وقاص اور حضرت خبیب بن عدی کے در میان مواخات قائم فرمائی تھی۔753 جنگ بدر میں شہادت ان کی شہادت کے واقعہ کا اور جنگ بدر میں شامل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ : مدینہ سے تھوڑی دور نکل کر آنحضرت صلی علی کی نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور فوج کا جائزہ لیا۔کم عمر بچے جو آنحضرت صلی علیم کی ہمرکابی کے شوق میں ساتھ چلے آئے تھے ان کو واپس بھیجا گیا۔سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی عمیر بھی چھوٹی عمر کے تھے۔کمسن تھے۔انہوں نے جب بچوں کی واپسی کا حکم سنا تو لشکر میں اِدھر اُدھر چھپ گئے لیکن آخر ان کی باری آئی اور آنحضرت صلی ا لم نے ان کی واپسی کا حکم دیا۔یہ حکم سن کر عمیر رونے لگ گئے اور آنحضرت علی ایم نے پھر ان کے غیر معمولی شوق کو دیکھ کر انہیں بدر میں شامل ہونے کی اجازت دی۔154 جنگ میں شریک ہونے کا جوش و جذبہ تاریخ کی ایک اور کتاب میں ان کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ : عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی ا لم بدر کی جانب روانہ ہونے کے لئے ہمارا معائنہ فرماتے میں نے اپنے بھائی عمیر بن ابی وقاص کو دیکھا کہ وہ چھپتے پھر رہے تھے۔اس پر میں نے ان سے پوچھا اے بھائی تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ڈرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علم مجھے دیکھ لیں گے تو بچہ سمجھ کر واپس بھیج دیں گے۔میں جنگ کے لئے جانا چاہتا ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا فرما دے۔پس جب یہ رسول اللہ صلی علی ریم کے سامنے پیش ہوئے تو آپ صلی ال کلیم نے انہیں چھوٹا سمجھ کر واپس جانے کا ارشاد فرمایا تو عمیر رونے لگ گئے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ کریم نے انہیں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔755 ان کی تلوار بڑی تھی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی یکم نے اپنے دست مبارک سے ان کی تلوار کی نیام باندھی۔756 حضرت عمیر بن ابی وقاص غزوہ بدر میں جب شہید ہوئے اس وقت آپ سولہ سال کے تھے۔757