اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 302

اصحاب بدر جلد 5 302 بہت کم مرکز میں آیا کرتے تھے۔ان کو قرآن کریم کا علم بہت کم تھا۔دین کا علم بہت کم تھا۔اس لئے آپ نے جماعت کو اس وقت تلقین کی کہ اس چیز سے تم لوگوں کو عبرت اور نصیحت پکڑنی چاہئے۔اس لئے ایک تو یہ کہ قرآن کریم کا علم سیکھو۔مرکز سے ہمیشہ رابطہ رکھو اور دین کا علم سیکھو تا کہ اگر آئندہ بھی کسی بھی قسم کا کوئی فتنہ جماعت میں اٹھتا ہے تو تم لوگ ہمیشہ اس سے بیچ سکو۔707 پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ہر کوئی نہ تو مرکز میں آسکتا ہے اور اس طرح خلافت کے ساتھ ذاتی تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔لیکن ایک بات بہر حال ہے کہ دین کا علم سیکھنا، قرآن کریم کا علم سیکھنا یہ تو ہر ایک کے لئے اب میسر اور مہیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہمیں ایک ایسا ذریعہ عطا فرما دیا ہے جس کے ذریعہ سے ہم اگر چاہیں تو دینی علم سیکھ سکتے ہیں۔قرآن کریم کے درس اس میں ہوتے ہیں۔حدیث کے درس ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے درس ہوتے ہیں۔خطبات ہیں۔دوسرے خطابات ہیں ، جلسے ہیں، تو کم از کم اس لحاظ سے اگر ہم اپنے آپ کو بھی اور اپنی نسلوں کو بھی اس ذریعہ سے جوڑ لیں تو یہ تربیت کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔خلافت سے تعلق قائم ہوتا ہے۔اور ہر قسم کے فتنہ اور فساد سے بچانے والا بھی ہے۔اور دینی علم بڑھانے والا بھی ہے۔اس لئے اس طرف افراد جماعت کو بہت توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ایم ٹی اے کا ذریعہ مہیا کیا ہے اس سے اپنے آپ کو جوڑیں۔108 صحابہ کے باہم اختلافات اور خلیفہ وقت کی ایک اصولی رہنمائی ایک واقعہ کی مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے حضرت عمار کے بارے میں بیان کیا تھا کہ حضرت عمر و بن عاص نے ان کی وفات پر بڑے افسوس اور فکر کا اظہار کیا تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی الیم کو کہتے سنا تھا کہ عمار بن یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا اور حضرت عمرو بن عاص کو فکر اس لئے تھی کہ وہ امیر معاویہ کی طرف تھے اور حضرت عمار کو شہید کرنے والے حضرت امیر معاویہ کے فوجی تھے۔بہر حال اس بات پر بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب یہ باغی گروپ میں تھے تو پھر ان کا نام 709 اتنی عزت سے کیوں لیا جاتا ہے اور حضرت امیر معاویہ کو بھی جماعت کے لٹریچر میں ایک مقام ہے۔پہلی بات تو یہ کہ صحابہ کا جو مقام ہے ہمارا کام نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ بخشا جائے گا اور یہ نہیں بخشا جائے گا۔جس بھی غلط فہمی یا غلطی کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ ہوا اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔اس کا خمیازہ مسلمانوں نے بھگتا بھی۔یہ سوال ان لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتے تھے جو اس زمانے میں تھے اور پھر وہ اپنی بے چینی کو دور کرنے کے لئے دعا بھی کرتے ہوں گے کہ یہ کیا ہو گیا کہ یہ بھی صحابی اور وہ بھی صحابی اور ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی بھی مانگتے ہوں