اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 283

اصحاب بدر جلد 5 283 دن کے بدلہ سے پہلے میرے سے بدلہ لے۔اس پر لوگوں میں سے ایک بوڑھے شخص کھڑے ہوئے جن کا نام عُکاشہ تھا۔آپ مسلمانوں میں سے ہوتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی الی یکم کے روبرو کھڑے ہو گئے اور عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔اگر آپ نے بار بار قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گز کھڑا نہ ہوتا۔حضرت عکاشہ کہنے لگے۔میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا جس سے واپسی پر میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب آگئی تو میں اپنی سواری سے اتر کر آپ کے قریب آیا تا کہ آپ کے پاؤں کو بوسہ دوں۔مگر آپ نے اپنی چھڑی ماری جو میرے پہلو میں لگی۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ چھڑی آپ نے اونٹنی کو ماری تھی یا مجھے۔اس پر آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا اللہ کے جلال کی قسم کہ خد ا کار سول جان بوجھ کر تجھے نہیں مار سکتا۔پھر آپ نے حضرت بلال کو مخاطب کر کے فرمایا اے بلال! فاطمہ کی طرف جاؤ۔حضرت فاطمہ کے گھر میں اور اس سے وہ چھڑی لے آؤ۔حضرت بلال گئے اور حضرت فاطمہ سے عرض کی کہ اے رسول اللہ صلی الیکم کی صاحبزادی! مجھے چھڑی دے دیں۔اس پر حضرت فاطمہ نے کہا اے بلال! میرے والد اس چھڑی کے ساتھ کیا کریں گے ؟ کیا یہ جنگ کے دن کی بجائے حج کا دن نہیں۔اس پر حضرت بلال نے کہا کہ اے فاطمہ آپ اپنے باپ رسول اللہ صلی اللہ کم سے کتنی بے خبر ہیں۔رسول اللہ صلی للی یکم لوگوں کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اپنا بدلہ دے رہے ہیں۔اس پر حضرت فاطمہ نے حیرانگی سے پوچھا اے بلال! کس کا دل کرے گا کہ وہ رسول اللہ صلی علیم سے بدلہ لے۔پھر حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے بلال حسن اور حسین سے کہو کہ وہ اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں کہ وہ ان دونوں سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول اللہ صلی علی ظلم سے بدلہ نہ لینے دیں۔پس حضرت بلال مسجد آئے اور رسول اللہ صلی علیکم کو چھڑی پکڑا دی اور آپ نے وہ چھڑی عُکاشہ کو پکڑائی۔جب حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے یہ منظر دیکھا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے اور کہا اے عکاشہ !ہم تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ہم سے بدلہ لے لو اور رسول اللہ صلی ال کم کو کچھ نہ کہو۔رسول اللہ صلی العلیم نے ان دونوں سے فرمایا: اے ابو بکر اور عمر رک جاؤ۔اللہ تم دونوں کے مقام کو جانتا ہے۔اس کے بعد حضرت علی کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ ! میں نے اپنی ساری زندگی رسول اللہ صلی اللی کم کے ساتھ گزاری ہے اور میرا دل گوارا نہیں کرتا کہ تم رسول اللہ صلی علیکم کو مارو۔پس یہ میرا جسم ہے میرے سے بدلہ لے لو اور بیشک مجھے سو بار مارو مگر رسول اللہ صلی للی یکم سے بدلہ نہ لو۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا اے علی بیٹھ جاؤ۔اللہ تمہاری نیست اور مقام کو جانتا ہے۔اس کے بعد حضرت حسن اور حسین کھڑے ہوئے اور کہا اے عکاشہ !ہم رسول اللہ صلی علیم کے نواسے ہیں اور ہم سے بدلہ لینار سول اللہ صلی اللی کم سے بدلہ لینے کے جیسا ہی ہے۔آپ نے ان دونوں سے فرمایا: اے میرے پیار و! بیٹھ جاؤ۔اس کے بعد آپ نے فرمایا اے عکاشہ مارو۔