اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 259
اصحاب بدر جلد 5 259 نے ، حضرت عمرؓ نے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مکہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔آپ نے کہ اتم عبد اللہ ایہ تو ہجرت کے سامان نظر آرہے ہیں۔ام عبد اللہ کہتی ہیں میں نے جواب میں کہا ہاں خدا کی قسم ! ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دکھ دیے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کیے ہیں۔ہم اس وقت اپنے ملک میں نہیں لوٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ ہمارے لیے کوئی آسانی اور آرام کی صورت پیدا نہ کر دے۔ام عبد اللہ بیان کرتی ہیں کہ عمرؓ نے جواب میں کہا کہ اچھا۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔اور کہتی ہیں کہ میں نے ان کی آواز میں رقت محسوس کی حالانکہ اس وقت مسلمانوں کے مخالف تھے لیکن یہ ہجرت دیکھ کر جذباتی ہو گئے۔خدا تمہارے ساتھ ہو کہا تو اس آواز میں ایک رقت تھی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔پھر وہ یعنی حضرت عمر جلدی سے منہ پھیر کے وہاں سے چلے گئے اور میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ سے ان کی طبیعت نہایت ہی عمگین ہو گئی ہے۔حبشہ کی طرف جانے والوں کا تعاقب بہر حال جب ان لوگوں کے ہجرت کرنے کی مکہ والوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے ان کا تعاقب کیا اور سمندر تک ان کے پیچھے گئے مگر یہ قافلہ ان لوگوں کے سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی حبشہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔مکہ والوں کو یہ معلوم ہو ا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک وفد بادشاہ حبشہ کے پاس بھیجا جائے جو اسے مسلمانوں کے خلاف بھڑکائے اور اسے تحریک کرے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ والوں کے سپرد کر دے۔بہر حال یہ وفد حبشہ گیا اور بادشاہ سے ملا۔امرائے دربار کو بھی ان لوگوں نے خوب اکسایا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے بادشاہ حبش کے دل کو مضبوط کر دیا تھا اور اسو نے باوجود ان لوگوں کے اصرار کے اور باوجود درباریوں کے اصرار کے، درباری جو تھے وہ مکہ والوں کی باتوں میں آگئے تھے انہوں نے بھی بادشاہ کو بڑا کہا کہ ان کو مکہ والوں کے، کافروں کے سپر د کر دو۔اس نے مسلمانوں کو کفار کے سپر د کرنے سے انکار کرد ر دیا۔جب یہ وفد ناکام واپس آیا تب مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بلانے کے لیے ایک اور تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر محض شرار نامشہور کی گئی ہے۔اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔حضرت عثمان بن مظعون اور مشہور شاعر لبید بن ربیعہ اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور کچھ مکہ میں ٹھہر گئے۔ان ٹھہر نے والوں میں سے حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون بھی تھے جو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے۔اس دفعہ ان کے باپ کے ایک دوست ولید بن مغیرہ نے ان کو پناہ دی اور وہ امن سے مکہ میں رہنے لگے مگر اس عرصے میں انہوں نے دیکھا کہ بعض دوسرے مسلمانوں کو دکھ دیے جاتے