اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 251

اصحاب بدر جلد 5 251 کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہمارے پیٹوں کو کھجوروں نے جلا دیا ہے۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کھجور ہی اہل مدینہ کی غذا ہے لیکن لوگ اسی کے ذریعہ سے ہماری مدد بھی کرتے ہیں اور ہم بھی انہی کے ذریعہ سے تمہاری مدد کرتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! ایک یا دو مہینے سے اللہ کے رسول کے گھر میں دھواں نہیں اٹھا۔یعنی میں نے بھی اور میرے گھر والوں نے بھی صرف پانی اور کھجور پر بسر اوقات کی ہے۔بہر حال یہ اصحاب صفہ عجیب فدائی لوگ تھے۔کھجور کے کھانے کا ذکر تو کیا، شکوہ تو کیا کہ اس نے پیٹ کو جلا دیا ہے لیکن جگہ نہیں چھوڑی۔وہ کامل وفا کے ساتھ وہیں بیٹھے رہتے تھے اور اسی چیز ، فاقوں پر یا پھر کھجوروں پر یا جو بھی مل جاتا تھا اس پر گزارا کرتے تھے۔پھر لکھا ہے کہ ان بزرگوں کا مشغلہ یہ تھا کہ راتوں کو عموماً عبادت کرتے تھے اور قرآن مجید پڑھتے رہتے۔ان کے لیے ایک معلم مقرر تھا جس کے پاس رات کو جا کر یہ پڑھتے تھے۔جن کو پڑھنا نہیں آتا تھا یا قرآن کریم صحیح طرح پڑھ نہیں سکتے تھے یا یاد کرنا چاہتے ہوں گے تو معلم ان کو رات کو پڑھاتا تھا۔اس بنا پر ان میں سے اکثر قاری کہلاتے تھے اور اشاعت اسلام کے لیے کہیں بھیجنا ہو تا تو یہی لوگ بھیجے جاتے تھے۔جب یہ پڑھ لکھ گئے تو پھر یہ قاری بھی کہلانے لگ گئے اور پھر دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے بھی ان کو بھیجا جاتا تھا۔اصحاب صفہ جو بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے بعد میں انہی اصحاب میں سے بہت سے بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز ہوئے یعنی اصحاب صفہ جو تھے یہ نہیں کہ بعد میں وہیں بیٹھے رہے بلکہ عہدوں پر، بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بحرین کے گورنر رہے تھے۔پھر حضرت معاویہ کے دور میں مدینہ کے گورنر رہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص بصرہ کے گورنر رہے اور کوفہ شہر کی بنیاد آپ نے ڈالی۔حضرت سلمان فارسی مدائن کے گورنر رہے۔حضرت عمار بن یاسر کوفہ کے گورنر رہے۔یہ سب اصحاب صفہ میں شامل تھے۔حضرت عبادہ بن جراح فلسطین کے گورنر رہے۔حضرت انس بن مالک حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں مدینے کے گورنر رہے۔انہی میں سے ایک سپہ سالار بھی تھے جنہوں نے فتوحاتِ اسلامیہ میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔حضرت زید بن ثابت نہ صرف سپہ سالار تھے بلکہ حضرت عمرؓ کے دور میں قاضی القضاۃ کے عہدے پر بھی متعین رہے۔رسول کریم ملی ایم نے فرمایا میں بھی تم میں سے ہی ہوں 574 حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ میں غریب مہاجرین کی جماعت میں جابیٹھا یعنی انہی اصحاب صفہ کی جماعت میں جو نیم برہنگی کے باعث ایک دوسرے سے ستر چھپارہے تھے یا تقریباً آدھا جسم ان کا نگا تھا اور اس حد تک تھا کہ مشکل سے اپنی ستر چھپا رہے تھے۔پھر کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک قاری قرآن کی تلاوت کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللی علم تشریف لے آئے۔جب رسول اللہ صلی علی کم کھڑے ہو گئے تو