اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 223

اصحاب بدر جلد 5 223 کہتے ہیں کہ لوگ آپس میں باتیں کرنے لگ گئے کہ اب دیکھیں کس کی رائے پر عمل ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بعد آنحضور صلی علی کی خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم فرما دیتا ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتا ہے کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں اور اے ابو بکر !تمہاری مثال حضرت ابراہیم جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِى وَ مَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِیم (ابراہیم:37) کہ پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقیناً مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ ابو بکر تمہاری مثال حضرت عیسی جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ ران تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدة:1193) کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں، اگر تو انہیں معاف کر دے تو یقینا تو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔اور حضرت عمر کو کہا کہ تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام جیسی ہے جیسے انہوں نے فرمایا تھا رب لا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَیا را (نوح:27) کہ اے میرے رب ! کافروں میں سے کسی کو زمین میں بستا ہوا نہ رکھ اور پھر حضرت عمر کو یہ بھی فرمایا کہ تمہاری حضرت موسی جیسی مثال ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ رَبَّنَا اطْمِسُ عَلَى اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (یونس :(89) کم اے ہمارے رب ان کے اموال برباد کر دے اور ان کے دلوں پر سختی کر پس وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔پھر حضور صلی یہ تم نے فرمایا کہ چونکہ تم ضرورت مند ہو اس وجہ سے قیدیوں میں سے ہر قیدی یا تو فدیہ دے گا یا پھر اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی علی کم اس حکم کی تعمیل سے سہل بن بیضاء کو مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ میں نے ان کو اسلام کا بھلائی کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔یہ سن کر آپ صلی علیہ کی خاموش رہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس دن جتنا مجھے اپنے اوپر آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ڈر لگا اتنا مجھے کبھی نہیں لگا۔آخر حضور صلی ا ہم نے فرما ہی دیا کہ اس کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔518 آنحضور صلی الم کا خاموش رہنا انہوں نے آپ صلی یکم کی ناراضگی پر محمول کیا اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اللہ تعالیٰ کی سزا کے ڈر سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔عجیب مقام تھا ان کا خشیت اللہ کا۔سنت رسول صلی الم کے مطابق حضرت ابن مسعود صرف جمعرات کے روز وعظ فرمایا کرتے تھے جو بہت ہی مختصر اور جامع ہو تا تھا اور ان کا بیان ایسا دلچسپ اور شیریں ہو تا تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مرد اس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جب تقریر ختم کرتے تھے تو ہماری خواہش ہوتی تھی کہ کاش ابھی وہ کچھ اور بیان کرتے۔شام کے وقت اس وعظ میں بالعموم آپ نبی کریم صلی علیم کی احادیث میں سے صرف ایک حدیث سنایا کرتے تھے اور حدیث بیان کرتے وقت آپ کے جذب و شوق اور عشق رسول کا منظر دیدنی ہو تا تھا۔آپ کے شاگرد مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز آپ نے ہمیں نبی کریم صلی علی ایم کی ایک