اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 222

222 اصحاب بدر جلد 5 ممکن نہ تھا۔اس قافلہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود بھی موجود تھے۔حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کو قافلہ والوں سے پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس آدمی کے استفسار پر حضرت عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا۔فج العميق۔یعنی دور کے راستے سے۔پھر پوچھا کہاں جارہے ہو تو جواب انہوں نے دیا کہ بیت العتيق۔یعنی خانہ کعبہ جارہے ہیں۔حضرت عمر نے پوچھا کہ ان لوگوں میں کوئی عالم ہے ؟ پھر ایک آدمی کو حکم دیا کہ ان کو آواز دیگر پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت کون سی ہے۔اس قافلے میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ تھے انہوں نے ہی اس شخص کو جو اب دیا، حضرت عمرؓ کے پوچھوانے پر کہ کونسی آیت عظیم آیت ہے کہ اللهُ لا إلهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نوم (القر 2565)۔(آیت الکرسی)۔پھر پوچھا کہ قرآن کریم کی محکم ترین آیت کون سی ہے۔تو یہ روایت میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَاتِي ذِي الْقُرْبَى (الحل:91) حضرت عمرؓ نے اس آدمی سے یہ پوچھنے کا کہا کہ قرآن کی جامع ترین آیت کون سی ہے ؟ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ جواب دیا۔فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شرا يرة ( الزلزال :8-9) پھر پوچھو کہ قرآن کریم کی خوفناک ترین آیت کون سی ہے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ آیت بتائی کہ لَيْسَ بِمَانِيَّكُمْ وَلَا آمَانِي أَهْلِ الْكِتَبِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدُ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (النساء:124) حضرت عمر فاروق نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے امید افزا آیت کون سی ہے ؟ جس پر عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا کہ قُلْ يُعِبَادِی الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ (الزمر:54) یہ ساری باتیں سننے کے بعد حضرت عمررؓ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے درمیان عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں؟ قافلہ کے لوگوں نے کہا کیوں نہیں! اللہ کی قسم ہمارے درمیان موجود ہیں۔حضرت عمر کو اس بات کا علم تھا کہ آپ علم فقہ سے لبریز ہیں۔517 اور یہ سارے جواب سن کے حضرت عمرؓ کو یقیناً پتہ لگ گیا ہو گا کہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہی ایسے عالمانہ جواب دے سکتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن آنحضور صلی الیم نے صحابہ سے پوچھا کہ تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یار سول اللہ صلی یہ تم یہ لوگ آپ کی قوم اور آپ کے خاندان سے ہیں۔ان کو معاف فرما کر نرمی کا معاملہ فرمائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی الله علم ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور تنگ کیا ہے آپ ان کی گردنیں اڑا دیں۔پھر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے رائے پیش کی یارسول اللہ صلی علیکم آپ گھنے درختوں والا جنگل تلاش کریں اور ان کو اس میں داخل کر کے آگ لگا دیں۔آنحضور صلی ا ولم نے سب کی رائے سنی مگر کوئی فیصلہ نہ فرمایا اور اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ b سة