اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 206

اصحاب بدر جلد 5 206 اسی وقت مسلمان ہوئے تھے۔471 اور آنحضور صلی ایم کے دارار تم میں داخل ہونے سے قبل ہی ایمان لے آئے تھے۔72 قبول اسلام کی تفصیل وہ جگہ جو مکہ میں مسلمانوں کے اکٹھے ہونے کے لئے بنائی گئی تھی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے والا چھٹا شخص تھا۔اس وقت روئے زمین پر ہم چھ اشخاص کے علاوہ الله سة کوئی مسلمان نہیں تھا۔اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں سن تمیز کو جب پہنچ گیا، ایسی عمر کو جب پہنچ گیا جب صحیح پہچان بھی ہوتی ہے، اچھے برے کا فرق پتہ لگ جاتا ہے ، بلوغت کی عمر ہوتی ہے۔ایک دن عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرارہا تھا۔آنحضرت صلی علیہ کم تشریف لائے اور حضرت ابو بکر بھی آپ کے ساتھ تھے۔آپ صلی الی یکم نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے تیرے پاس کچھ دودھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے مگر میں امین ہوں دے نہیں سکتا۔بچپن سے ہی ان میں بڑی نیکی تھی۔آنحضور صلی یم نے فرمایا کہ کوئی بکری لے آؤ جو گا بھن نہ ہو، ایسی بکری جو گا بھن نہیں ہے، دودھ نہیں دے رہی اسے لے آؤ۔کہتے ہیں میں ایک جوان بکری آپ کے پاس لے گیا تو رسول خداصلی ایم نے اس کے پاؤں باندھ دیئے، اس کے تھن پر ہاتھ پھیر ناشروع کیا اور دعا کی یہاں تک کہ اس کا دودھ اتر آیا۔پھر حضرت ابو بکر ایک برتن لے آئے اور حضور صلی علیم نے اس برتن میں اس کا دودھ دھویا اور حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ پیو۔حضرت ابو بکر نے دودھ پیا۔بعد میں حضور صلی لینی ہم نے پیا اور پھر آپ نے تھنوں پہ اپنا ہاتھ پھیرا اور کہا کہ سکڑ جاؤ اور وہ سکڑ گئے اور پہلے جیسے ہو گئے۔میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ مجھے بھی اس کلام میں سے کچھ سکھا دیں جو آپ نے پڑھا ہے۔اس پر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم سیکھے سکھائے نوجوان ہو۔آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ صلی علیم سے بلا واسطہ قرآن کریم کی ستر سورتیں یاد کی ہیں ، بر او ر است آنحضرت صلی الله یم سے آپ نے یاد کی تھیں۔473 دینی علم میں فضیلت ان کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی سیر ہ خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ "عبد اللہ بن مسعود جو غیر قریشی تھے اور قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھتے تھے ایک بہت غریب آدمی تھے اور عقبہ بن ابی معیط رئیس قریش کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔اسلام لانے کے بعد یہ آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں آگئے اور آپ کی صحبت سے بالآخر نہایت عالم و فاضل بن گئے۔فقہ حنفی کی بنیاد زیادہ تر انہی کے اقوال و