اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 202

اصحاب بدر جلد 5 202 حضرت امام شافعی بیان کرتے ہیں کہ متواتر روایات سے یہ بات پختہ طور پر معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی الی الم نے غزوہ احد کے شہداء کا جنازہ نہیں پڑھا اور جن روایات میں ذکر آیا ہے کہ آپ صلی علیم نے ان شہداء کا جنازہ پڑھا تھا اور حضرت حمزہ پر ستر تکبیرات کہی تھیں یہ بات درست نہیں ہے اور جہاں تک حضرت عقبہ بن عامر کی روایت کا تعلق ہے کہ حضور صلی نیلم نے آٹھ سال کے بعد ان شہداء کا جنازہ پڑھا تو اس روایت میں اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ یہ آٹھ سال بعد کا واقعہ ہے۔160 461 م المدرسة جیسا کہ میں نے کہا اس پر بڑی بخشیں ہوئی ہیں۔کچھ اور بھی بیان کر دیتا ہوں۔امام بخاری نے اپنی کتاب میں باب الصلواۃ علی الشہید یعنی شہیدوں کی نماز جنازہ کے عنوان سے باب باندھا ہے اور اس کے نیچے صرف دو حدیثیں لائے ہیں۔پہلی حدیث جو کہ حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے اور اس میں واضح طور پر ذکر ہے کہ غزوۂ احد کے شہداء کو نہ غسل دیا گیا اور نہ ہی ان پر نماز جنازہ پڑھی گئی جبکہ دوسری حدیث میں حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ أن النبي ﷺ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ایک دن نبی کریم صلی للی کم نکلے اور احد کے شہداء پر نماز جنازہ کی طرز پر نماز پڑھی اور یہی حدیث بخاری میں ہی دوسری جگہ غزوہ احد کے باب میں بھی آئی ہے وہاں یہی صحابی روایت کرتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ صَلَّى رَسُولُ اللهِ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ کہ رسول اللہ صلی الم نے احد کے شہداء پر آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی جیسے زندوں یا وفات پانے والوں کو الوداع کہا جاتا ہے۔اسی طرح علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ امام شافعی کی اس سے یہ مراد ہے کہ کسی کی وفات پر لبی مدت گزر جانے کے بعد اس کی قبر پر جنازہ نہیں پڑھا جاتا۔امام شافعی کے نزدیک جب رسول اللہ صلی الی یکم کو معلوم ہوا کہ آپ کے وصال کا وقت قریب ہے تو آپ نے ان شہداء کی قبروں پر جا کر انہیں الوداع کہتے ہوئے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے لیے مغفرت طلب کی۔462 شہدائے احد کی تکلفین اور تدفین کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب یہ لکھتے ہیں کہ نعشوں کی دیکھ بھال کے بعد متکین کا کام شروع ہوا۔آنحضرت صلی علیکم نے ارشاد فرمایا کہ جو کپڑے شہداء کے بدن پر ہیں وہ اسی طرح رہنے دیئے جائیں اور شہداء کو غسل نہ دیا جاوے۔البتہ کسی کے پاس کفن کے لیے زائد کپڑا ہو تو وہ پہنے ہوئے کپڑوں کے اوپر لپیٹ دیا جاوے۔نماز جنازہ بھی اس وقت ادا نہیں کی گئی۔چنانچہ بغیر غسل دیئے اور بغیر نماز جنازہ ادا کئے شہداء کو دفنا دیا گیا۔اور عموماً ایک ایک کپڑے میں دو دو صحابیوں کو اکٹھا کفنا کر ایک ہی قبر میں اکٹھا دفن کر دیا گیا۔جس صحابی کو قرآن شریف زیادہ آتا تھا اسے آنحضرت صلی علیہ نیم کے ارشاد کے ماتحت لحد میں اتارتے ہوئے مقدم رکھا جاتا۔“ اور پھر لکھتے ہیں کہ گو اس وقت نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی لیکن بعد میں زمانہ وفات کے قریب آنحضرت صلی اللہ الم نے خاص طور پر شہداء احد پر جنازہ کی نماز ادا کی۔“ یہ آپ نے مختلف تاریخوں