اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 193

اصحاب بدر جلد 5 193 آنحضرت علی الم سے محبت کا نرالا انداز حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی نیم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !خدا کی قسم ایقیناً آپ مجھے میری ذات سے زیادہ محبوب ہیں اور یقیناً آپ مجھے میرے اہل سے زیادہ محبوب ہیں اور یقینا آپ مجھے میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں۔میں گھر میں تھا اور آپ کو یاد کر رہا تھا کہ مجھ سے صبر نہ ہوا یہاں تک کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اب میں آپ کو دیکھ رہا ہوں۔جب مجھے اپنے اور آپ کی موت یاد آئی تو میں نے جان لیا کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے تو دیگر انبیاء کے ساتھ آپ کا رفع ہو گا اور میں ڈرا کہ جب میں جنت میں داخل ہوں گا تو آپ کو وہاں نہ پاؤں گا۔اس پر نبی کریم صلی علی کلم نے اس شخص کو کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ جبریل اس آیت کے ساتھ نازل ہوئے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَ الصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا (النساء: 70) کہ اور جو کوئی بھی اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن اللہ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں میں سے ، صدیقوں میں سے، شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے۔427 آنحضرت علی کم کی پیروی میں نبوت کا مقام اس آیت کو ہم اس دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم کی پیروی سے غیر تشریعی نبوت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے اور آپ کی پیروی میں ایک شخص صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔بہر حال نبوت کا مقام چاہے وہ غیر تشریعی نبوت ہی ہو اور وہ آنحضرت صلی علیم کی غلامی میں بھی ہے تو ایک بہت اعلیٰ مقام ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور آنے والے مسیح موعود کے بارے میں خود آنحضرت صلی علیم نے نبی اللہ " کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔428 اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم آنحضرت صلی یک کم کی غلامی میں تشریعی نبی مانتے ہیں اور اس سے آنحضرت صلی الیکم کے مقام ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا بلکہ آپ کا مقام بڑھتا ہے کہ اب نبوت بھی صرف آپ کی غلامی میں مل سکتی ہے اور یہ معنی صرف ہم ہی نہیں کرتے بلکہ پرانے بزرگوں نے بھی کیے ہیں۔چنانچہ امام راغب نے بھی اس کے یہی معنے کیے ہیں کہ آنحضرت صلی ال نیم کے بعد غیر شرعی نبی آپ کی پیروی میں آسکتے ہیں۔429 بہر حال اس آیت کے ضمن میں یہ ذکر میں نے کر دیا تا کہ وضاحت بھی ہو جائے۔علامہ زرقانی لکھتے ہیں کہ مختلف کتب تفسیر میں یہ واقعہ آنحضور صلی الی نام کے غلام حضرت ثوبان کے متعلق ملتا ہے جبکہ تفسیر يَنْبُوعُ الْحَيَاة میں مقاتل بن سلیمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ حضرت