اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 4
اصحاب بدر جلد 5 ملی چادر بچھائی تھی۔12 4 کے بیجھو مسلم کی روایت کے مطابق وہ سرخ رنگ کی مخملی چادر تھی۔13 یہ وہ چادر تھی کہ آنحضرت صلی علی نام اس کو استعمال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت شقران بیان کرتے تھے کہ میں نے اس بات کو نا پسند کیا کہ رسول اللہ صلی الی و کم کے بعد کوئی دوسرا اس کو اوڑھے کیونکہ رسول اللہ صلی لی کم اس چادر کو اوڑھتے اور بچھایا بھی کرتے تھے۔14 غزوہ مریسیع کے موقع پر نبی کریم صلی علیہ ہم نے حضرت شقر ان کو قیدیوں اور اہل مریسیع کے کیمپوں سے جو مال و متاع اور اسلحہ اور جانور وغیرہ ملے تھے ان پر نگران مقرر فرمایا تھا۔15 اس لحاظ سے بڑے قابل اعتماد ، قابل اعتبار تھے۔نگرانی کیا کرتے تھے۔ان کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت عمر نے حضرت شقر ان کے صاحبزادے عبد الرحمن بن شقران کو حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف روانہ کیا اور لکھا کہ میں تمہاری طرف ایک صالح آدمی عبد الرحمن بن صالح شقران کو بھیج رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللی کیم کے آزاد کردہ غلام تھے۔رسول اللہ صلی علیکم کے ہاں ان کے والد کے مقام کالحاظ رکھتے ہوئے اس سے سلوک کرنا۔16 یہ وہ مقام تھا جو اسلام نے غلاموں کو بھی دیا کہ نہ صرف غلامی سے آزاد کیا بلکہ ان کی اولادیں بھی قابل احترام ٹھہریں۔وفات ایک روایت ہے کہ حضرت شقران نے مدینہ میں رہائش اختیار کی تھی اور آپ کا ایک گھر بصرہ میں بھی تھا۔حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں آپ کی وفات ہوئی۔17 بعض کے نزدیک حضرت شقران اور حضرت ام ایمن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملے تھے۔18 غلام تھے۔غزوہ بدر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد فرما دیا تھا۔19 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جن اشخاص کو غسل دینے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں حضرت صالح شقران بھی تھے نیز ان کے علاوہ آٹھ اہل بیت اور بھی تھے۔20 مسند امام احمد بن حنبل کی روایت ہے کہ حضرت صالح کو ایک سعادت اور حاصل ہے۔وہی جو غسل کے بارے میں ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل دیا جار ہا تھا تو اس وقت جو اصحاب پانی انڈیل رہے تھے ان میں حضرت صالح شقران اور حضرت اسامہ بن زیڈ تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل