اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 181

اصحاب بدر جلد 5 181 طاری ہوئی تھی تو میرے پاس دو شخص آئے۔اس وقت جو نظارہ میں نے دیکھا کہ اس حالت میں دو آئے اور انہوں نے کہا چلو غالب امین ذات کے سامنے تمہارا فیصلہ کراتے ہیں۔تو ان دونوں کو ایک شخص اور ملا، ایک تیسرا شخص ملا اور کہنے لگا اسے مت لے جاؤ کیونکہ یہ ماں کے پیٹ سے ہی سعادت مند ہے۔یہ نظارہ حضرت عبد الرحمن نے اپنے بارے میں دیکھا۔397 نعمتوں کے زمانہ میں صحابہ اور نبی صلی اللہ علم کی یاد میں آنکھیں اشکبار ہو جانا الله 398 الله سة نوفل بن ایاس هالی کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ہماری مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔وہ بہترین ساتھی تھے۔ایک دن وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے۔غسل کر کے باہر آئے اور ہمارے پاس ایک بر تن لائے جس میں روٹی اور گوشت تھا۔پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ رونے لگے۔ہم نے پوچھا ابو محمد ! آپ کیوں رور ہے ہیں۔کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی علی یکم اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ آپ صلی علی کم اور آپ کے اہل خانہ جو کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یعنی جو کی روٹی بھی پوری طرح نہیں ملتی تھی۔پھر فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ جس چیز کے لیے ہمیں تاخیر ملی وہ ہمارے لیے بہتر ہو۔18 یعنی ہمیں جو اتنا عرصہ زندہ رہنے کا موقع ملا ہے یہ ہمارے لیے بہتر ہے یا کوئی ابتلا یا امتحان ہے۔یہ تھے صحابہ کے جذبات۔ایک تو اللہ تعالیٰ کا خوف اور آنحضرت صلی یکم اور آپ کے گھر والوں کے لیے جذبات کا اظہار۔انہی جذبات کا صرف آنحضرت صلی علی کم اور آپ کے خاندان سے تعلق نہیں تھا بلکہ صحابہ کے لیے بھی اس مثالی محبت کا یہ اظہار ہوتا تھا جو آپس میں صحابہ کو ایک دوسرے سے تھی۔اسی ضمن میں ایک واقعہ آتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے پاس ایک روز افطاری کے وقت کھانا لایا گیا۔انواع و اقسام کے کھانے جب دستر خوان کی زینت بنے تو حضرت عبد الرحمن نے ایک لقمہ اٹھایا۔مختلف قسم کے کھانے آئے اور ایک لقمہ اس میں سے آپ نے کھانے کے لیے اٹھایا۔جب لقمہ منہ میں ڈالا تو رقت طاری ہو گئی اور یہ کہہ کر کھانے سے ہاتھ اٹھا لیے کہ مصعب بن عمیر احد میں شہید ہوئے۔وہ ہم سے بہتر تھے۔ان کی چادر کا ہی کفن پہنایا گیا۔یعنی کفن کے لیے کپڑا نہیں تھا تو جو چادر انہوں نے اوڑھی ہوئی تھی اسی کا کفن پہنایا گیا اور اس کفن کی کیا حالت تھی ؟ اگر پاؤں ڈھانکتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، سر ڈھانکتے تھے تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے۔پھر حضرت عبدالرحمن کہنے لگے کہ حمزہ شہید ہوئے۔وہ بھی مجھ سے بہتر تھے لیکن ہمیں مالی فراخی اور دنیاوی آسائش عطا کی گئی اور ہمیں اس سے حصہ وافر ملا۔مجھے ڈر ہے کہ ہماری نیکیوں کا اجر ہمیں جلد اس دنیا میں مل گیا۔اس کے بعد وہ رونے لگے اور کھانا چھوڑ دیا۔یہ خوف تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کی خشیت تھی۔399 اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت کا عالم اتم المومنین حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس حضرت عبد الرحمن بن عوف آئے اور کہا کہ اے میری ماں! مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کر دے کیونکہ میں قریش میں