اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 180

اصحاب بدر جلد 5 180 اس وجہ سے تھی کہ وہ مجھ کو نرم دیکھتے تھے۔میں بہت نرم تھا اس لیے وہ ذرا شرت دکھاتے تھے تاکہ معاملہ balanced رہے۔پھر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ جب معاملہ ان کے سپر د ہو گا تو اس قسم کی اکثر باتیں وہ چھوڑ دیں گے۔پھر اس میں شدت نہیں دیکھو گے۔پھر فرمایا اے ابو محمد ! میں نے ان کو بغور دیکھا ہے کہ جس وقت کسی شخص پر کسی معاملے میں میں غضبناک ہو تا تھا یعنی حضرت ابو بکر فرما رہے ہیں جب مجھے کسی بات پر غصہ آتا تھا تو عمر مجھ کو اس پر راضی ہونے کا مشورہ دیتے تھے۔اس وقت حضرت عمرکا مشورہ نرمی کا ہو تا تھا۔اور جب کبھی میں کسی پر نرم ہو تا تھاتو مجھے کو اس پر سختی کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اے ابو محمد ایہ باتیں جو میں نے تم سے کہی ہیں تم ان کا کسی اور سے ذکر نہ کرنا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا اچھا۔394 ان ابتدائی صحابہ کی قربانیاں بہت زیادہ تھیں ان کا مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا فتح مکہ کے بعد جب حضور صلی المینیوم نے مختلف اطراف میں کچھ وفود بھیجے تو حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا۔بنو جذیمہ نے جاہلیت میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کے والد عوف اور حضرت خالد کے چچا فا کہ بن مغیرہ کا قتل کیا تھا۔حضرت خالد سے وہاں غلطی سے اس قبیلے کے ایک می کا قتل ہو گیا۔حضور صلی علیکم کو اس امر کا علم ہوا تو آپ نے نا پسند کیا۔آپ نے اس کی دیت بھی ادا کی اور جو کچھ حضرت خالد نے ان سے لیا تھا اس کی قیمت ادا کر دی۔عبد الرحمن بن عوف کو حضرت خالد کے اس فعل کا علم ہوا تو حضرت عبد الرحمن نے حضرت خالد کو کہا کہ تم نے اس کو اس لیے قتل کیا کہ انہوں نے تمہارے چچا کو قتل کیا تھا؟ حضرت خالد نے جواب میں سختی سے کہا کہ انہوں نے تمہارے باپ کو بھی قتل کیا تھا۔حضرت خالد نے مزید کہا تم جو ہم سے پہلے ایمان لے آئے تو تم ان دنوں کو بہت لمبا کرنا چاہتے ہو یعنی ان سے تم بڑا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔یعنی کہ تم ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے ہو اس لیے بڑا اعزاز سمجھتے ہو۔اس وجہ سے مجھے یہ بات کہہ رہے ہو۔یہ بات نبی اکرم صلی للی کم کو پہنچی کیونکہ حضرت خالد نے ذراغصے اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔آنحضرت صلی علی کیم کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا میرے اصحاب کو چھوڑ دو۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو ان کے معمولی خرچ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ان لوگوں کا یہ بہت بڑا مقام ہے۔ان ابتدائی صحابہ کی قربانیاں بہت زیادہ تھیں ان کا مقابلہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے متعلق فرمایا کہ وہ مسلمانوں کے سرداروں کے سردار ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ عبد الرحمن آسمان میں بھی امین ہے اور زمین میں بھی امین ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف ایک دفعہ اتنے سخت بیمار ہوئے کہ غشی طاری ہو گئی۔ان کی اہلیہ کے منہ سے چیخ نکل گئی یعنی کافی بُری حالت ہو گئی تو اس غم کی حالت میں ان کی چیخ نکلی۔بہر حال جب ان کو اس کے بعد صحت میں بہتری بھی آگئی۔طبیعت میں جب ان کو افاقہ ہوا تو کہنے لگے کہ مجھے جب غشی 396 395