اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 158
اصحاب بدر جلد 5 158 پردے لٹکے ہوتے تھے ، اس میں بٹھایا جاتا اور وہ اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا۔کہتی ہیں ہم اسی طرح سفر میں رہے جب رسول اللہ صلی علی کی اس مہم سے فارغ ہوئے اور واپس آئے اور ہم مدینے کے قریب ہی تھے کہ ایک رات آپ نے کوچ کا حکم دیا۔جب لوگوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں بھی چل پڑی اور فوج سے آگے نکل گئی۔حاجت کی ضرورت تھی، جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے ہو رج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ کالے نگینوں کا ایک ہار تھا وہ ٹوٹ کر میرے گلے سے گر گیا ہے۔میں واپس لوٹی۔اپنا ہار ڈھونڈنے لگی۔اتنے میں وہ لوگ جو میرے اونٹ کو تیار کرتے تھے ، آئے اور انہوں نے میر اہو دج اٹھا لیا اور وہ ہو دج میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔وہ سمجھے کہ میں اسی میں بیٹھی ہوئی ہوں۔بہر حال انہوں نے اونٹ کو اٹھا کر چلا دیا اور خود بھی چل پڑے۔جب سارا لشکر گزر چکا تو اس کے بعد میں نے اپنا گما ہو اہار جو تھا اس کو پالیا۔دیکھ لیا اٹھا لیا۔مجھے مل گیا۔پھر میں اپنے اس ڈیرے کی طرف گئی، اس جگہ گئی جس میں میں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے اور میرے پاس لوٹ آئیں گے۔کہتی ہیں میں ڈیرے پر گئی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا تو پھر میں نے بہر حال یہی خیال کیا کہ مجھے جب ہودج میں نہیں دیکھیں گے تو واپس میری طرف آئیں گے۔کہتی ہیں میں بیٹھی ہوئی تھی تو اسی اثنا میں آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔صفوان بن معطل سلمی ذکوانی فوج کے پیچھے یہ دیکھنے کے لیے رہا کرتے تھے کہ کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔کہتے ہیں وہ صبح ڈیرے پر آئے جہاں ہمارا پڑاؤ تھا اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کا وجو د دیکھا اور میرے پاس آئے اور حجاب کے حکم سے پہلے کیونکہ وہ مجھے دیکھا کرتے تھے تو انہوں نے جب دیکھا کہ میں ہوں تو انہوں نے انا للہ پڑھا۔ان کے انا للہ پڑھنے پر میں جاگ گئی۔بہر حال اس کے بعد انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی اور میں اس پر سوار ہو گئی۔وہ اونٹنی کی نکیل پکڑ کر چل پڑے یہاں تک کہ ہم اس وقت فوج میں پہنچے جب لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لیے ڈیروں میں تھے۔جس کو ہلاک ہو نا تھا وہ ہلاک ہو گیا پھر کہتی ہیں کہ جس کو ہلاک ہو نا تھا وہ ہلاک ہو گیا۔یعنی الزام لگا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا اور اس تہمت کا بانی عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔بہر حال کہتی ہیں ہم مدینے پہنچے۔میں وہاں ایک ماہ تک بیمار رہی۔کسی وجہ سے بیمار ہو گئی تھی۔میری اس بیماری کے اثنا میں تہمت لگانے والوں کی باتوں کالوگ چرچا کرتے رہے اور جو بات ان کو نہیں پتالگا کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں لیکن اس اثنا میں کہتی ہیں جو بات مجھے شک میں ڈالتی تھی وہ یہ تھی کہ میں نبی کریم صلی علیم سے وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپ سے اپنی بیماری میں دیکھا کرتی تھی۔آپ صرف اندر آتے اور السلام علیکم کہتے۔پھر پوچھتے اب وہ کیسی ہے ؟ کہتی ہیں مجھے اس تہمت کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔کہتی ہیں ایک دن ام مسطح کے ساتھ میں باہر گئی۔رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے۔تب اس نے مجھے تہمت لگانے والوں کی بات سنائی۔جب میں اپنے گھر لوٹی تو رسول اللہ صلی الیکم میرے پاس آئے اور آپ نے السلام علیکم کہا اور آپ نے پوچھا اب تم کیسی ہو ؟ میں