اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 116

اصحاب بدر جلد 5 116 سعد بن ابی وقاص اور عقبہ واپس نہیں آئے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق سخت خدشہ تھا کہ اگر وہ قریش کے ہاتھ پڑ گئے تو وہ قریش انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی تک قیدیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میرے آدمی بخیریت مدینہ پہنچ جائیں گے تو پھر میں تمہارے آدمیوں کو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ جب وہ دونوں واپس پہنچ گئے تو آپ مسی تنظیم نے فدیہ لے کر دونوں قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن ان قیدیوں میں سے ایک شخص پر مدینہ کے قیام کے دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ اور اسلامی تعلیم کی صداقت کا اس قدر گہرا اثر ہو چکا تھا کہ اس نے آزاد ہو کر بھی واپس جانے سے انکار کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہو کر آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا اور بالآخر بئر معونہ میں شہید ہوا۔اس کا نام حکم بن گئیان 260 261 حضرت عبد اللہ بن جحش کی تلوار غزوہ احد کے دن ٹوٹ گئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عرجون یعنی کھجور کی ایک شاخ مرحمت فرمائی۔پس وہ آپ کے ہاتھ میں تلوار کی طرح ہو گئی۔اسی دن سے آپے غمر جون کے لقب سے مشہور ہوئے۔ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جحش اپنے رب کی قسم اٹھانے والے اور محبت الہی کو قلب میں جگہ دینے والے اور سب سے پہلے اسلامی جھنڈا قائم کرنے والے تھے۔262 امام شعبی سے روایت ہے کہ میرے پاس بنی عامر اور بنی اسد کے دو آدمی آپس میں فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہوئے آئے۔بنی عامر کے شخص نے بنی اسد کے شخص کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔اسدی کہہ رہا تھا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دو جبکہ عامری کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم ! میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا تو امام شعبی کہتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ اے بنی عامر کے بھائی ! اس کو چھوڑ دو اور اسدی سے کہا کہ تمہاری چھ خوبیاں ایسی ہیں جو پورے عرب میں کسی میں نہیں ہیں۔وہ یہ ہیں۔نمبر ایک : کہ تم میں سے ایک خاتون سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے کروا دیا اور ان دونوں کے درمیان سفیر حضرت جبرئیل تھے اور وہ خاتون حضرت زینب بنت جحش ہتھیں اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔نمبر دو: تم میں سے ایک شخص تھا جو کہ جنتی تھا مگر پھر بھی زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتا تھا اور وہ حضرت عکاشہ بن محصن تھے اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔نمبر تین: اور اسلام میں سب سے پہلا علم یعنی جھنڈا جو دیا گیا وہ بھی تم میں سے ایک شخص حضرت عبد اللہ بن جحش سود دیا گیا اور یہ تمہاری قوم کے لیے فخر کی بات ہے۔نمبر چار سب سے پہلا مالِ غنیمت جو اسلام میں تقسیم ہو اوہ عبد اللہ بن جحش کا مالِ غنیمت ہے۔نمبر پانچ اور بیعت رضوان میں جس شخص نے سب سے پہلے بیعت کی وہ تمہاری قوم کا تھا وہ