اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 115
اصحاب بدر جلد 5 115 بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی اور کہا کہ تم نے وہ کام کیا جس کا تم کو حکم نہیں دیا گیا تھا اور تم نے شہر حرام میں لڑائی کی حالانکہ اس مہم میں تو تم کو مطلقا لڑائی کا حکم نہیں تھا۔دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص مارا گیا تھا یعنی عمرو بن حضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف بھی تھا اس لیے بھی اس واقعہ نے قریش کی آتش غضب کو بہت بھڑ کا دیا اور انہوں نے آگے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔چنانچہ جنگ بدر زیادہ تر قریش کی اسی تیاری اور جوش عداوت کا نتیجہ تھا۔الغرض اس واقعہ پر مسلمانوں اور کفار ہر دو میں بہت چہ میگوئیاں ہوئیں اور بالآخر ذیل کی قرآنی وحی نازل ہو کر مسلمانوں کی تشفی کا موجب ہوئی۔اور وہ یہ ہے کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرٌ وَصَةٌ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَ كُفْرَ بِهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ إِخْرَاجُ اَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمُ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا (البقرہ:218) یعنی لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شہر حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو ان کو جواب دے کہ بے شک شہر حرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن شہر حرام میں خدا کے دین سے لوگوں کو جبر ارو کنا بلکہ شہر حرام اور مسجد حرام دونوں کا کفر کرنا یعنی ان کی حرمت کو توڑنا اور پھر حرم کے علاقہ سے اس کے رہنے والوں کو بزور نکالنا جیسا کہ اے مشر کو تم لوگ کر رہے ہو یہ سب باتیں خدا کے نزدیک شہر حرام میں لڑنے کی نسبت بھی زیادہ بری ہیں اور یقیناً شہر حرام میں ملک کے اندر فتنہ پیدا کرنا اس قتل سے بدتر ہے جو فتنہ کو روکنے کے لیے کیا جاوے۔اور اے مسلمانو ! کفار کا تو یہ حال ہے کہ وہ تمہاری عداوت میں اتنے اندھے ہو رہے ہیں کہ لہ کسی وقت اور کسی جگہ بھی وہ تمہارے ساتھ لڑنے سے باز نہیں آئیں گے اور وہ اپنی یہ لڑائی جاری رکھیں گے حتی کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں بشر طیکہ وہ اس کی طاقت پائیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف رؤسائے قریش اپنے خونی پر اپیگنڈا کو اشہر حرام میں بھی برابر جاری رکھتے تھے بلکہ اشہر حرم کے اجتماعوں اور سفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ان مہینوں میں اپنی مفسدانہ کارروائیوں میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے اور پھر کمال بے حیائی سے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے وہ عزت کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ادھر ادھر منتقل بھی کر دیا کرتے تھے جسے وہ نیٹی کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آگے چل کر تو انہوں نے غضب ہی کر دیا کہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں باوجود پختہ عہد و پیمان کے کفارِ مکہ اور ان کے ساتھیوں نے حرم کے علاقہ میں مسلمانوں کے ایک حلیف قبیلہ کے خلاف تلوار چلائی۔پھر جب مسلمان اس قبیلہ کی حمایت میں نکلے تو ان کے خلاف بھی عین حرم میں تلوار استعمال کی۔پس اس جواب سے مسلمانوں کی تو تسلی ہونی ہی تھی قریش بھی کچھ ٹھنڈے پڑ گئے اور اس دوران میں اُن کے آدمی بھی اپنے دو قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے مدینہ پہنچ گئے لیکن چونکہ ابھی تک