اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 78

اصحاب بدر جلد 4 78 سب سے زیادہ محبوب خدا کی راہ میں قربان حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ مدینے میں تمام انصاریوں سے کھجوروں کے زیادہ باغ رکھتے تھے اور ان کو سب سے زیادہ پیاری جائیداد بیر حاء کا باغ تھا جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی صلی اللہ تم اس میں آیا کرتے تھے اور وہاں کا صاف ستھرا پانی پیا کرتے تھے۔حضرت انس کہتے تھے کہ جب یہ آیت اتری کہ : لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 33) تم ہر گز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔حضرت ابوطلحہ کھڑے ہو گئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحِبُّونَ تم ہر گز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور میری جائیداد میں سے مجھے سب سے پیارا باغ بیر حاء ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔اب میں اللہ کے لیے صدقہ دیتا ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ کے ہاں مقبول نیکی ہو گی اور بطور ذخیرے کے ہو گی۔اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھائے وہاں اسے خرچ کریں۔آپ نے فرما یا شاباش یہ فائدہ دینے والا مال ہے یا فرمایا ہمیشہ رہنے والا مال ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم نے کہا ہے میں نے سن لیا ہے۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے قریبیوں میں ہی بانٹ دو۔ابو طلحہ نے کہا یارسول اللہ ! حضور کے ارشاد کی تعمیل میں ایسے ہی کیے دیتا ہوں۔چنانچہ ابوطلحہ نے اس باغ کو اپنے قریبیوں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا 199 ایک اور اعزاز اور سعادت حضرت ابو طلحہ کو یہ اعزاز اور سعادت بھی حاصل ہے کہ وہ آنحضور صلی لی یم کی ایک بیٹی کی وفات پر آپ صلی علیم کے ارشاد پر اس کی قبر میں اترے اور حضور کی صاحبزادی کی نعش مبارک کو قبر میں اتارا۔200 ہم نے تمہارے گھوڑے کو دریا پایا حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بار مدینہ والے یکا یک گھبر اگئے۔نبی صلی علیکم حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوئے جو آہستہ چلتا تھا یا یہ کہا کہ جس کی رفتار ست تھی۔جب آپ کوٹے تو آپ نے حضرت ابو طلحہ کو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے گھوڑے کو ایک دریا پایا ہے۔بہت تیز چلتا ہے۔اس کے بعد اس گھوڑے کا چلنے میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔201 دلجوئی اور مزاح حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کی ہم سے مل جل جاتے تھے۔میرے چھوٹے بھائی