اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 71

اصحاب بدر جلد 4 71 بیعت عقبہ ثانیه 180 حضرت ابو طلحہ نے بیعت عقبہ ثانیہ میں آنحضرت صلی علیکم کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق پائی۔آپ غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں بھی آنحضرت صلی علیہ کم کے ہمراہ شریک ہوئے۔جب حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ ہم نے ان کی حضرت ابو طلحہ کے ساتھ مواخات قائم فرمائی۔حضرت ابوطلحہ کا رنگ گندمی اور قد متوسط تھا، در میانہ تھا۔آپ نے کبھی سر اور داڑھی کے بالوں پر خضاب نہیں لگایا۔179 جس طرح بال تھے ویسے ہی رکھے۔حضرت انس حضرت ابو طلحہ کے ربیب یعنی بیوی کے پہلے خاوند سے بیٹے تھے۔حضرت اُمید سلیم کے پہلے خاوند مالک بن نضر تھے۔ان کے فوت ہونے کے بعد حضرت ابوطلحہ سے ان کی شادی ہوئی جن سے ان کے ہاں عبد اللہ اور ابو عمیر کی ولادت ہوئی۔اسلام میں آج تک کسی عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر ایسا قابل عزت ہو حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ نے اُمِ سلیم کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔اُمِ سلیم نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے آپ جیسے آدمی سے نکاح کا انکار نہ ہو تا لیکن آپ مشرک ہیں اور میں مسلمان۔یہ سنن نسائی کی روایت ہے اور میں مسلمان عورت ہوں۔میرے لیے جائز نہیں ہے کہ میں آپ - نکاح کروں۔اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو یہی میر امہر ہو گا اور میں اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی۔حضرت ابو طلحہ نے اسلام قبول کر لیا اور یہی ان کا مہر مقرر ہوا۔حضرت ثابت کہا کرتے تھے کہ میں نے اسلام میں آج تک کسی عورت کے بارے میں نہیں سنا کہ اس کا مہر ایسا قابل عزت ہو جیسا کہ اُم سُلیم کا مہر تھا۔181 سے مقتولین بدر کو ایک کنویں میں پھینکا جاتا اور نبی اکرم صلی کم کا ان سے خطاب حضرت ابوطلحہ غزوہ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علم کے ساتھ شامل تھے۔حضرت ابو طلحہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے جنگ بدر کے دن سردارانِ قریش میں سے چوبیس آدمیوں کی نسبت حکم دیا اور انہیں بدر کے کنووں میں سے ایک نا پاک کنویں میں ڈال دیا گیا اور آپ جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان میں تین راتیں قیام فرماتے۔جب آپ بدر میں ٹھہرے اور تیسرا دن ہوا تو آپ نے اپنی اونٹنی پر کجاوہ باندھنے کا حکم دیا اور چنانچہ اس پر کجاوہ باندھا گیا۔پھر آپ صلی علیہم چلے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے ساتھ چلے اور کہنے لگے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کسی غرض کے لیے چلے تھے۔آپ اسی کنویں کی منڈیر پر پہنچ کر کھڑے ہو گئے جہاں ان چو بیس آدمیوں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں۔بند کنواں تھا۔آپ ان کے اور ان کے باپوں کے نام لے کر پکارنے لگے کہ اے فلاں فلاں کے بیٹے ! اے فلاں فلاں کے بیٹے ! کیا اب تم کو اس بات سے