اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 48
تاب بدر جلد 4 48 ہاتھ پھیلائے۔جن میں حضرت عمرؓ اور زبیر بلکہ بعض روایات کی رو سے حضرت ابو بکر اور حضرت علی بھی شامل تھے۔مگر آپ صلی علیہ یکم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور یہی فرماتے رہے کہ کوئی ہے جو اس کا حق ادا کرے؟ آخر ابو دجانہ انصاری نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور عرض کیا۔یارسول اللہ مجھے عنایت فرمائیے۔آپ نے یہ تلوار انہیں دے دی اور ابو دجانہ اسے ہاتھ میں لے کر تبختر کی چال سے یعنی بڑے فخر سے اور اکڑتے ہوئے کفار کی طرف آگے بڑھے۔آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا خدا کو یہ چال نا پسند ہے مگر ایسے موقع پر نا پسند نہیں۔زبیر جو آنحضرت صلی للی کم کی تلوار لینے کے سب سے زیادہ خواہش مند تھے اور قرب رشتہ کی وجہ سے اپنا حق بھی زیادہ سمجھتے تھے ، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی علیکم نے مجھے یہ تلوار نہیں دی اور ابو دجانہ کو دے دی اور اپنی اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے انہوں نے دل میں عہد کیا کہ میں اس میدان میں ابو دجانہ کے ساتھ ساتھ رہوں گا اور دیکھوں گا کہ وہ اس تلوار کے ساتھ کیا کرتا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ابو دجانہ نے اپنے سر پر ایک سرخ کپڑا باندھا اور اس تلوار کو لے کر حمد کے گیت گنگناتا ہوا مشرکین کی صفوں میں گھس گیا اور میں نے دیکھا کہ جدھر جاتا تھا گویا موت بکھیر تا جاتا تھا اور میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جو اس کے سامنے آیا ہو اور پھر وہ بچا ہو۔حتی کہ وہ لشکر قریش میں سے اپناراستہ کا تاہو الشکر کے دوسرے کنارے نکل گیا جہاں قریش کی عورتیں کھڑی تھیں۔ہند زوجہ ابوسفیان جو بڑے زور شور سے اپنے مردوں کو جوش دلا رہی تھی اس کے سامنے آئی اور ابو دجانہ نے اپنی تلوار اس کے اوپر اٹھائی جس پر ہند نے بڑے زور سے چیخ ماری اور اپنے مردوں کو امداد کے لیے بلایا مگر کوئی شخص اس کی مدد کو نہ آیا۔زبیر کہتے ہیں کہ لیکن میں نے دیکھا کہ ابودجانہ نے خود بخود ہی اپنی تلوار نیچی کر لی اور وہاں سے ہٹ آیا۔زبیر روایت کرتے ہیں کہ اس موقع پر میں نے ابودجانہ سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ پہلے تم نے تلوار اٹھائی پھر نیچے کر لی۔اس نے کہا کہ میرا دل اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی میڈیم کی تلوار ایک عورت پر چلاؤں اور عورت بھی وہ جس کے ساتھ اس وقت کوئی مرد محافظ نہیں۔زبیر کہتے ہیں میں نے اس وقت سمجھا کہ واقعی جو حق رسول اللہ صلی علیم کی تلوار کا ابودجانہ نے ادا کیا ہے وہ شاید میں نہ کر سکتا اور میرے دل کی خلش دور ہو گئی۔17 میرے دل نے برداشت نہ کیا رسول کریم ملی علیم کی دی ہوئی تلوار ایک کمزور عورت پر چلاؤں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ احد کی جنگ میں رسول کریم ملی این نکم نے ایک تلوار پیش کی اور فرمایا یہ تلوار میں اس شخص کو دوں گا جو اس کا حق ادا کرنے کا وعدہ کرے۔بہت سے لوگ اس تلوار کو لینے کے لیے کھڑے ہوئے۔آپ نے ابودجانہ انصاری کو وہ تلوار دی۔لڑائی میں ایک جگہ مکہ والوں کے کچھ سپاہی ابودجانہ پر حملہ آور ہوئے۔جب آپ ان سے لڑ رہے تھے تب آپ نے دیکھا کہ ایک سپاہی سب سے زیادہ جوش کے ساتھ لڑائی میں حصہ لے رہا ہے۔آپ نے تلوار اٹھائی اور اس کی طرف لپکے لیکن پھر اس کو چھوڑ کر واپس آگئے یعنی حضرت دُجانہ نے تلوار اٹھائی، اس کی طرف لپکے لیکن پھر چھوڑ کے واپس آگئے۔آپ کے کسی دوست نے پوچھا کہ آپ