اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 47
ب بدر جلد 4 47 کیا یارسول اللہ میں۔آپ نے پھر مجھ سے اعراض فرمایا۔رسول اللہ صلی علیکم نے پھر فرمایا کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا ؟ حضرت ابودجانہ سماك بن خرشہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں اور اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرنا اور اس کے ہوتے ہوئے کسی کا فر سے نہ بھاگنا، ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی الیم نے تلوار ابو دجانہ کو عطا فرمائی اور ابو دجانہ کی یہ عادت تھی کہ جب جنگ کا ارادہ کرتے تو سرخ رومال سر پر باندھ لیتے تھے۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ میں نے کہا آج میں دیکھوں گا کہ یہ کس طرح اس تلوار کا حق ادا کرتا ہے۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ ابو دجانہ کے سامنے جو بھی آیا وہ اس کو ہلاک کرتے اور کاٹتے ہوئے آگے بڑھنے لگے یہاں تک کہ وہ لشکر سے گزر کر ان کی عورتوں کے سروں پر جا پہنچے جو پہاڑ کے دامن میں دف بجارہی تھیں اور ان میں سے ایک عورت یہ کہہ رہی تھی۔یہ شعر پڑھ رہی تھی۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم طارق صبح کے ستارے کی بیٹیاں ہیں جو بادلوں پر چلتی ہیں۔اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم معانقہ کریں گی اور بیٹھنے کے لیے تکیے لگائیں گی اور اگر تم پیٹھ پھیر گئے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی۔یہ ایسی جدائی ہو گی کہ پھر تم میں اور ہم میں محبت کا کوئی تعلق باقی نہ رہے گا۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ابودجانہ نے ایک عورت پر تلوار چلانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا اور پھر روک لیا۔جب جنگ ختم ہوئی تو میں نے ان سے کہا میں نے تمہاری ساری لڑائی دیکھی ہے۔تم نے ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا اور پھر نیچے کر لیا۔اس کی کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ صلی الہیم کی تلوار کی تکریم کی کہ اس کے ذریعے کسی عورت کو قتل کروں۔یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ میں کسی عورت کے قتل کے لیے رسول کریم صلی ایم کی تلوار استعمال کروں اس لیے میں رک گیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت ہند زوجہ ابو سفیان تھی جو دیگر عورتوں کے ساتھ مل کر گانے گا رہی تھی۔جب اس پر حضرت ابودجانہ نے اپنی تلوار بلند کی تو اس نے مدد کے لیے بلند آواز سے کہا اے صخر ! الیکن کوئی مدد کو نہ آیا۔حضرت ابودجانہ نے اپنی تلوار نیچے کر لی اور واپس چلے گئے۔حضرت زبیر کے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ میں نے ناپسند کیا کہ رسول اللہ صلی الم کی تلوار سے کسی عورت کو ماروں جس کا کوئی مددگار نہیں تھا۔6 116 رسول اللہ صلی الم نے تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا کون ہے جو اس کا حق ادا کرے؟ حضرت ابودجانہ کے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اسے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مبارزت میں جب کفار قریش کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو کفار نے یہ نظارہ دیکھا تو غضب میں آکر عام دھاوا بول دیا۔مسلمان بھی تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور دونوں فوجیں آپس میں گھتم گتھا ہو گئیں۔غالباً اسی موقع پر آنحضرت صلی للہ ہم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا۔کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق ادا کرے؟ بہت سے صحابہ نے اس فخر کی خواہش میں اپنے