اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 43

ناب بدر جلد 4 43 سلوک بر الگ رہا ہے۔آنحضرت صلی الم نے حضرت ابوحذیفہ سے یہ سوال کیا تو حضرت ابوحذیفہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم !! مجھے اللہ اور رسول صلی الی یکم سے متعلق کوئی شبہ نہیں لیکن میر اوالد بردبار، سچا اور صائب الرائے شخص تھا۔وہ اپنے خیال میں جو سمجھتا تھا وہ اس کو صحیح سمجھتا تھا لیکن اس میں بد نیتی نہیں تھی اور میں چاہتا تھا کہ اللہ اس کی موت سے پہلے اسے اسلام کی طرف ہدایت دے دے۔لیکن جب میں نے دیکھا کہ ایسا ہونا اب ممکن نہیں رہا اور اس کا وہ انجام ہو ا جو اس کا انجام ہوا تو اس بات نے مجھے دکھی کر دیا۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابوحذیفہ کے حق میں بھلائی کی دعا فرمائی۔102 وفات حضرت ابوحذیفہ نے تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیکم کے ساتھ شرکت کی توفیق پائی اور حضرت ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں 53 یا54 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔103 15 حضرت ابو حَقَّهُ مالک بن عمرو حضرت ابو حَنَّهُ مالك بن عمرو " أبو حَنَّہ ان کی کنیت تھی۔مالك بن عمرو ان کا نام تھا۔محمد بن عمر واقدی نے آپ کو شرکائے بدر میں شمار کیا ہے۔آپ کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض روایات کے مطابق آپ کا نام عامر اور ثابت بن نُعمان بھی بیان ہوا ہے۔آپ کی کنیت ابو حبہ اور ابوحیہ بھی بیان کی جاتی ہے لیکن محمد بن عمر واقدی کہتے ہیں کہ ابو حَبَّهُ کنیت کے دو اشخاص کا ذکر ملتا ہے۔ایک ابو حبة بن غزيه بن عمرو اور ایک دوسرے ابو حبة بن عَبدِ عمرٍو الْمَازِنِي۔یہ دونوں غزوہ ر بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔شاملین بدر میں کسی کی کنیت ابو حبہ نہ تھی بلکہ غزوہ بدر میں جو شامل ہوئے ہیں ان کی کنیت ابوحنہ تھی۔اس لحاظ سے وہ اپنی بات پر زور دیتے ہیں کہ ابو حنہ ہی ان کی کنیت تھی۔104