اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 42

ب بدر جلد 4 42 اپنے باپوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کو تو قتل کریں لیکن عباس کو چھوڑ دیں۔یہ کیا ہوا؟ خدا کی اگر میرے سامنے آئے تو میں ضرور ان پر تلوار چلاؤں گا۔حضرت عمر کو پہلی بار ”ابو حفص “ کی کنیت عطا ہونا آنحضرت صلی ا یکم تک جب یہ بات پہنچی تو آپ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا کہ یا ابا فص! اے ابو حفص ! رسول خدا کے چاکے چہرے پر تلوار سے وار کیا جائے گا ! حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ رسول اللہ صلی علی یکم نے مجھے ابو حفص کنیت عطا کی۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں تلوار سے ان کی گردن اڑا دوں۔خدا کی قسم ! اس میں نفاق پایا جاتا ہے جس نے یہ بات کی ہے۔حضرت ابوحذیفہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی علیم نے تو منع کر دیا کہ نہیں یہ نہیں ہو گا لیکن حضرت ابو محذیفہ بیان کیا کرتے تھے کہ میں اس بات کے شر سے جو اس دن میں نے کہی، (اُن کو احساس ہو گیا کہ میں نے بڑی غلط بات کہہ دی ہے، امن میں نہیں رہ سکتا۔ایسی بات میں نے کہہ دی ہے جس کی وجہ سے میں امن میں نہیں رہ سکتا۔میں ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہوں گا سوائے اس کے کہ شہادت کی موت اس کے شر سے مجھے ٹال دے کہ میں اسلام کی خاطر شہید ہوں تبھی میں سمجھوں گا کہ اس کے شر سے میں محفوظ ہو گیا ہوں جو بات میں نے کہی ہے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ پس آپ کو جنگ یمامہ کے روز شہادت نصیب ہوئی۔101 ایک بات جوش سے منہ سے نکل گئی لیکن پھر خوف بھی پیدا ہوا اور تمام زندگی یہ خوف رہا حتی کہ آپ کی شہادت ہوئی۔مقتولین بدر سے رسول اللہ صلی الم کا خطاب حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے مشرکین کے مقتولین کو ایک گڑھے میں، کنوئیں میں پھینکنے کا حکم دیا۔پس انہیں اس میں پھینک دیا گیا تو رسول اللہ صلی علیم نے ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے کنوئیں والو! کیا تم نے اس وعدے کو سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا؟ یعنی کہ بتوں نے۔میں نے تو کو سچا نے مجھ سے کیا تھا۔اور اگر لی جائے تو وہ وہی تھی کہ تمہیں سزا یا ہے جو میرے کا الملک اللہ تعالی سے مراد بہر حال نے فرمایا تو اس وعدے کو سچا پا یا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیا تھا کہ میں ان کو سزا دوں گا اور تیرے پر غالب نہیں آسکیں گے۔اس ر آپ صلی الم کے صحابہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو مر چکے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یقینا یہ جان چکے ہیں کہ تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھاوہ سچا تھا۔حضرت ابو حذیفہ کے صبر ورضا کا ایک اور مرحلہ اور نبی صلی السلام کی دعا جب آنحضرت صلی علیم کے ارشاد کے مطابق انہیں کنوئیں میں پھینکا گیا تو حضرت ابوحذیفہ کے چہرے سے ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے کیونکہ ان کے والد کو بھی کنوئیں میں پھینکا جار ہا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا کہ اے ابو حذیفہ ! خدا کی قسم !! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تمہیں اپنے والد سے ہونے والا