اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 572

572 161 صحاب بدر جلد 4 حضرت سواد بن غزية حضرت سَوَادُ بن غزيه رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔یہ بھی انصاری تھے۔ان کا ذکر بھی آتا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو عدی بن نجار سے تھا۔غزوہ بدر اور اُحد اور خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں انہوں نے خالد بن ہشام مخزومی کو قید کیا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضور صلی ا ہم نے آپ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تھا۔آپ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آئے۔نبی کریم صلی الی کلم نے ان سے ایک صاع عمدہ کھجور میں دو صاع عام کھجوروں کے بدلے میں خریدیں۔آنحضور صلی علی یم کو کھجوریں پسند آئیں تو آپ نے اس کی جو موجودہ قیمت تھی وہ کھجوروں کے مقابلے میں کھجوریں دے کر خرید لیں۔حضرت سواد کی خوش بختی اور محبت رسول صلی اللہ نام کا ایک ذکر 1302 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں غزوہ بدر کے واقعات میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سواد کی خوش بختی اور محبت رسول صلی علیہ کم کا ایک ذکر ملتا ہے۔رمضان دو ہجری کی سترہ تاریخ جمعہ کا دن تھا۔عیسوی حساب سے 14 مارچ 623 عیسوی تھی۔صبح اٹھ کر سب سے پہلے نماز ادا کی گئی اور پھر پرستاران احدیت کھلے میدان میں خدائے واحد کے حضور سربسجود ہوئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی الیم نے جہاد پر ایک خطبہ فرمایا۔پھر جب ذرا روشنی ہوئی تو آپ نے ایک تیر کے اشارے سے مسلمانوں کی صفوں کو درست کر ناشروع کیا۔ایک صحابی سواد نامی صف سے کچھ آگے نکل کے کھڑ ا تھا۔آپ نے اسے تیر کے اشارے سے پیچھے ہٹنے کو کہا مگر اتفاق سے آپ کے تیر کی لکڑی اس کے سینے پہ جا لگی۔اس نے جرات کے انداز سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو خدا نے حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔یہ عجیب واقعہ ہے کہ تیر سے لائنیں سیدھی کر رہے تھے تو تیر کی لکڑی لائن سے باہر نکلے اس کے سینے پر لگ گئی۔اس نے بڑی جرآت سے کہا کہ آپ کو خدا نے حق و انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے مگر آپ نے مجھے ناحق تیر مارا ہے۔واللہ میں تو اس کا بدلہ لوں گا۔اس پر صحابہ بڑے حیران پریشان انگشت بدنداں تھے کہ سواد کو کیا ہو گیا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ نیلم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ اچھا سواد میں نے تمہیں مارا ہے تو تم بھی مجھے تیر مار لو۔آپ نے اپنے سینے سے کپڑا اٹھا دیا۔سواد نے فرط محبت سے آگے بڑھ کر آپ کا سینہ چوم لیا۔آنحضرت علی یم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔سو اد ا یہ تمہیں کیا سو جھی؟ اس نے رفت بھری آواز میں