اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 545

اصحاب بدر جلد 4 545 مستجاب الدعوات حضرت سعید بن زید مستجاب الدعوات تھے۔ایک مرتبہ ان پر زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا گیا جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت سعید بن زید کی زمین کے ساتھ ملحقہ زمین ایک خاتون آروی بنت اُویس کی تھی۔اس نے حضرت معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ مدینہ پر گورنر مروان بن حکم کے پاس شکایت کی کہ سعید نے ظلم سے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔مروان نے تحقیق کے لیے آدمی مقرر کیے تو حضرت سعید نے انہیں جواب دیا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں رسول اللہ صلی ال و کرم سے یہ سننے کے بعد ظلم کر سکتا ہوں کہ جو ظلم کی راہ سے ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گا قیامت کے دن ساتوں زمینیں اس کے گلے کا طوق ہوں گی۔اس کے بعد انہوں نے کہا اے خدا ! اگر اڑ وی جھوٹ بولتی ہے تو اس کو اس وقت تک موت نہ دے جب تک اس کی نظر نہ جاتی رہے اور اس کی قبر اس کے گھر کا کنواں نہ بنے۔چنانچہ لکھا ہے کہ آڑوی پہلے بصارت کی نعمت سے محروم ہوئی۔پھر ایک روز چلتے ہوئے اپنے ہی گھر کے کنویں میں گر کر مر گئی۔اس کے بعد یہ محاورہ بن گیا اور اہل مدینہ یہ کہنے لگے کہ اعتماك الله كما أغمی آروی کہ اللہ تجھے اسی طرح اندھا کرے جس طرح اس نے آڑوی کو اندھا کیا تھا۔وفات 1227 حضرت سعید بن زید نے پچاس یا اکاون ہجری میں تقریباً ستر برس کی عمر میں جمعے کے دن وفات پائی۔بعض روایات کے مطابق وفات کے وقت ان کی عمر ستر سال سے متجاوز تھی، زیادہ تھی۔نواح مدینہ میں بمقام عقیق ان کا مستقل مسکن تھا اور عقیق !! جزیرہ عرب میں اس نام کی کئی وادیاں ہیں۔ان میں سب سے اہم مدینہ کی وادی عقیق ہے جو مدینے کے جنوب مغرب سے شمال مشرق تک پھیلی ہوئی ہے اور اس میں مدینہ منورہ کی ساری وادیاں آکر شامل ہو جاتی ہیں۔بہر حال حضرت عبد اللہ بن عمرؓ جمعہ کی تیاری کر رہے تھے۔جب انہوں نے حضرت سعید کی وفات کی خبر سنی تو وہ جمعہ پر نہیں گئے بلکہ اسی وقت عقیق کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے غسل دیا اور ان کی نعش مبارک لوگ کندھوں پر رکھ کر مدینہ لائے۔پھر حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ میں ان کی تدفین ہوئی۔1228 ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے حضرت سعید بن زید کی وفات کی خبر سنی تو وہ جمعہ پر جانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن وہ جمعہ پر نہ گئے اور ان کی طرف گئے اور انہیں غسل دیا، خوشبو لگائی اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی جبکہ عائشہ بنت سعد بیان کرتی ہیں کہ حضرت سعید بن زید کو حضرت سعد بن ابی وقاص نے غسل دیا اور خوشبو لگائی پھر گھر آئے اور خود بھی غسل کیا۔پھر جب گھر سے باہر نکلے تو کہا کہ حضرت سعید بن زید کو غسل دینے کی وجہ سے غسل نہیں کیا بلکہ گرمی کی وجہ سے میں نے غسل کیا ہے۔