اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 541 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 541

بدر جلد 4 541 گھر سے نکلے۔ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔راستہ میں ایک شخص ملا انہوں نے کہا عمر ! بڑے غصہ میں ننگی تلوار لے کر کہاں جارہے ہو ؟ انہوں نے کہا آج میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کام تمام کرنے جا رہا ہوں۔تو اس نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔اس پر حضرت عمرؓ نے فوراً اپنارخ پلٹا اور اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے گئے۔جب گھر کے قریب پہنچے تو اندر سے قرآن کریم کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔خباب بن ارت بڑی خوش الحانی سے وہ پڑھ رہے تھے۔یہ آواز سن کر حضرت عمر کا غصہ اور بڑھ گیا۔جلدی سے ایک دم دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئے۔بہر حال اس آمیٹ سے خباب تو فوراً کہیں چھپ گئے۔پر دہ یا کسی جگہ کوئی چھپنے کی جگہ تھی اور فاطمہ نے جو اُن کی بہن تھیں انہوں نے فوری طور پر قرآن شریف کے اور اق بھی اِدھر اُدھر چھپا دیے۔اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت فاطمہ اور حضرت سعید سے کہا کہ سنا ہے تم لوگ اپنے دین سے پھر گئے ہو ؟ اور یہ کہہ کے مارنے کے لیے اپنے بہنوئی سعید بن زید سے لپٹ گئے۔فاطمہ اپنے خاوند کو بچانے کے لیے بیچ میں آگئیں لیکن اس وقت حضرت عمر کا حملہ ایسا تھا کہ حضرت فاطمہ بھی اس کی زد میں آگئیں اور زخمی بھی ہو گئیں۔بہر حال زخمی ہونے کے بعد فاطمہ کی جرات بڑھی۔انہوں نے بڑے جوش سے کہا کہ ہاں عمر ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔جو تمہارے سے ہو سکتا ہے کر لو لیکن ہم اسلام کو نہیں چھوڑیں گے۔بہر حال بہن کا یہ جرات مندانہ اور دلیرانہ کلام سنا، یہ بات سنی تو آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا۔اور جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ بہن بھی خون و خون ہوئی ہوئی ہے۔اُس کو بھی ایسی چوٹ لگی تھی کہ چہرے سے خون بہ رہا تھا۔اس نظارے کا حضرت عمرؓ کی طبیعت پر بڑا اثر ہوا اور فوراً انہوں نے کہا اچھا مجھے اپنا وہ کلام تو دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔فاطمہ نے کہا اس طرح نہیں۔کیونکہ تم ان اوراق کو ضائع کر دو گے۔عمرؓ نے جواب دیا کہ نہیں۔نہیں کرتا۔واپس کر دوں گا۔تو اس پر حضرت فاطمہ نے کہا پھر بھی اس طرح نہیں دکھایا جا سکتا۔پہلے تم جاکے غسل کر لو، پھر دیکھنا۔چنانچہ جب غسل کر کے فارغ ہوئے تو حضرت فاطمہ نے قرآن کریم کے اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیے۔انہوں نے اٹھا کر دیکھا تو سورۃ طلا کی یہ ابتدائی آیات تھیں اور حضرت عمر بڑے مرعوب دل کے ساتھ انہیں پڑھنے لگے۔فطرت سعید تھی اور آنحضرت صلی اللہ علم کی دعا بھی تھی۔جب پڑھنا شروع کیا تو ہر ہر لفظ ان کے دل میں اترتا گیا اور پڑھتے پڑھتے جب اس آیت پر پہنچے، یہ دو آیات ہیں کہ اِنَّنِي أَنَا اللهُ لا إلهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةُ أَكَادُ أَخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسعى ( 15:1-16) یعنی میں ہی اس دنیا کا واحد خالق و مالک ہوں۔میرے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں۔پس تمہیں چاہیے کہ صرف میری ہی عبادت کرو اور میری ہی یاد کے لیے اپنی دعاؤں کو وقف کر دو۔دیکھو موعود گھڑی جلد آنے والی ہے مگر ہم اس کے وقت کو مخفی رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہر شخص اپنے کیے کا سچا بد لہ پاسکے۔جب حضرت عمرؓ نے یہ آیت پڑھی تو گویا ان کی آنکھ کھل گئی اور بے اختیار ہو کے بولے۔کیسا عجیب کلام ہے ؟ کیسا پاک کلام ہے ؟ خَبَاب نے جب یہ الفاظ سنے، وہ چھپے ہوئے تھے تو فوراً باہر نکل آئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور پھر انہوں نے کہا کہ یہ جو تبدیلی پیدا ہوئی ہے یہ رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ ہے کیونکہ خدا کی