اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 494 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 494

تاب بدر جلد 4 494 زبان یا عمل سے غلطی کی اصلاح نہ کرائے تو اس غلطی کے بد نتائج کو بدل ڈالے گا یعنی اس کے نتائج پھر بد نہیں نکلیں گے۔فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت چاہے کہ خلفاء کبھی کوئی ایسی بات کر بیٹھیں جس کے نتائج بظاہر مسلمانوں کے لیے مضر ہوں اور جس کی وجہ سے بظاہر جماعت کے متعلق خطرہ ہو کہ وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف جائے گی تو اللہ تعالیٰ نہایت مخفی سامانوں سے اس غلطی کے نتائج کو بدل دے گا اور جماعت بجائے تنزل کے ترقی کی طرف قدم بڑھائے گی اور وہ مخفی حکمت بھی پوری ہو جائے گی جس کے لیے خلیفہ کے دل میں ذہول پیدا کیا گیا تھا یعنی کوئی بھول ہو گئی تھی یا غفلت ہو گئی تھی ، وہ حکمت پوری ہو جائے گی۔مگر انبیاء کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں یعنی عصمت کبریٰ بھی اور عصمت صغریٰ بھی۔وہ تنفیذ و نظام کا بھی مرکز ہوتے ہیں اور وحی و پاکیزگی اعمال کا بھی مرکز ہوتے ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر خلیفہ کے متعلق ضروری ہے کہ وہ پاکیزگی اعمال کا مرکز نہ ہو۔ہاں یہ ہو سکتا ہے، ممکن ہے کہ پاکیزگی اعمال سے تعلق رکھنے والے بعض افعال میں وہ دوسرے اولیاء سے کم ہو۔پس جہاں ایسے خلفاء ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اعمال کا مرکز ہوں اور نظام سلسلہ کا مرکز بھی، وہاں ایسے خلفاء بھی ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اور ولایت میں دوسروں سے کم ہوں لیکن انتظامی قابلیت، نظامی قابلیتوں کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھے ہوئے ہوں مگر ہر حال میں ہر شخص کے لیے ان کی اطاعت فرض ہو گی چونکہ نظام کا ایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔اب جماعتی سیاست سے لوگ ایک دم چونک گئے ہوں گے۔بعضوں کو خیال آیا ہو گا کہ یہ جماعتی سیاست کیا ہوئی ؟ یہاں لفظ سیاست سے مراد عمومی طور پر ہماری زبان میں، زبان میں کیا ؟ ہمارے ہاں عام طور پر جو مفہوم لیا جاتا ہے وہ منفی رنگ میں لیا جاتا ہے اور منفی رنگ میں ہی استعمال ہوتا ہے۔کچھ سیاست دانوں نے اس لفظ کو بدنام کر دیا ہے کہ جوڑ توڑ کرنا اور نقصان پہنچانا یا صحیح کام نہ کرنا لیکن حقیقت میں اس کا جو لغت میں مطلب ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نظام چلانے کا طریق۔صحیح رنگ میں نظام چلانا اس کو سیاست کہتے ہیں۔پھر حکمت عملی سے کام کرنا یہ ہے اس کا مطلب۔برائیوں کو روکنے کے لیے نظام کو قائم کرنا یہ ہے اس کا مطلب۔عقل اور حکمت سے کام کو چلانا۔بین الا قوامی معاملات کو صحیح رنگ میں ادا کرنے کی صلاحیت ہونا یہ اصل سیاست ہے۔گویا تمام مثبت باتیں اس لفظ کا مطلب ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم اصلی معنوں کو بھول کر سیاست دانوں کے عمل کی وجہ سے اور اپنی ہی غلط حرکتوں کی وجہ سے منفی مطلب لیتے ہیں لیکن بہر حال یہاں حضرت مصلح موعودؓ نے جو یہ لفظ سیاست استعمال کیا ہے وہ مثبت رنگ میں استعمال کیا ہے اور وہ ساری وہ باتیں ہیں جو میں نے بیان کی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام کو چلانے کے لیے جو عقل اور حکمت اور دانائی اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں۔فرمایا کہ چونکہ نظام کا ایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لیے خلفاء کے متعلق غالب پہلو یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نظامی پہلو کو بر تر رکھنے والے ہوں۔نظامی پہلو کو سب سے اوپر