اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 493
تاب بدر جلد 4 493 بھی نہیں کہ وہ مامور نہ ہو۔حضرت آدم مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔حضرت داؤد مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مامور بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے۔پھر تمام انبیاء مامور بھی ہوتے ہیں اور خدا کے قائم کردہ خلیفہ بھی۔جس طرح ہر انسان ایک طور پر خلیفہ ہے اسی طرح انبیاء بھی خلیفہ ہوتے ہیں مگر ایک وہ خلفاء ہوتے ہیں جو کبھی مامور نہیں ہوتے۔گو اطاعت کے لحاظ سے ان میں اور انبیاء میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔اطاعت جس طرح نبی کی ضروری ہوتی ہے ویسے ہی خلفاء کی بھی ضروری ہوتی ہے۔ہاں ان دونوں اطاعتوں میں ایک امتیاز اور فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کی اطاعت اور فرمانبر داری اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ وحی الہی اور پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے مگر خلیفہ کی اطاعت اس لیے نہیں کی جاتی کہ وہ وحی الہی اور تمام پاکیزگی کا مرکز ہے بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذ وحی الہی اور تمام نظام کا مرکز ہے یعنی جو وحی نبی پہ اتری ہے اس کی تنفیذ کرنے والا ہے۔اور جو نظام نبی نے قائم کیا ہے اس کو چلانے کا مرکز ہے خلیفہ۔اسی لیے واقف اور اہل علم لوگ کہا کرتے ہیں کہ انبیاء کو عصمت کبری حاصل ہوتی ہے اور خلفاء کو عصمت صغری۔اسی مسجد میں (جہاں قادیان میں مصلح موعودؓ خطبہ فرمار ہے ہیں کہ اسی مسجد میں) اسی منبر پر جمعہ کے ہی دن حضرت خلیفہ اول سے میں نے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ تم میرے کسی ذاتی فعل میں عیب نکال کر اس اطاعت سے باہر نہیں ہو سکتے۔اگر میرا کوئی ذاتی کام ہے اس میں کوئی عیب نکال لو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اطاعت سے باہر ہو گئے۔کبھی نہیں ہو سکتے جو خدا نے تم پر عائد کی ہے۔وہ اطاعت جو خدا نے تم پر عائد کی ہے تم اس سے باہر نہیں ہو سکتے کیونکہ جس کام کے لیے میں کھڑ ا ہوا ہوں وہ اور ہے اور وہ نظام کا اتحاد ہے۔اس لیے میری فرمانبر داری ضروری اور لازمی ہے۔تو انبیاء کے متعلق جہاں الہی سنت یہ ہے کہ سوائے بشری کمزوریوں کے جس میں توحید اور رسالت میں فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ دخل نہیں دیتا اور اس لیے بھی کہ وہ امت کی تربیت کے لیے ضروری ہوتی ہے جیسے سجدہ سہو کہ وہ بھول کے نتیجے میں ہوتا ہے مگر اس کی ایک غرض امت کو سہو کے احکام کی عملی علیم دینا تھی۔ایسی غلطی نبی بھی کر سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم سے بھی ہوئی اور سجدہ سہو بھی آپ نے پھر ادا فرمایا۔فرمایا کہ انبیاء کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے ہیں اور وہاں خلفاء کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے ، انبیاء کے لیے تو ہو گیا کہ تمام اعمال خدا کی حفاظت میں ہیں لیکن خلفاء کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اُن کے وہ تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں گے جو نظام سلسلہ کی ترقی کے لیے ان سے سرزد ہوں گے اور کبھی بھی وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے اور اگر کریں تو اس پر قائم نہیں رہیں گے جو جماعت میں خرابی پیدا کرنے والی اور اسلام کی فتح کو اس کی شکست میں بدل دینے والی ہو۔وہ جو کام بھی نظام کی مضبوطی یعنی خلیفہ وقت جو کام بھی نظام کی مضبوطی اور اسلام کے کمال کے لیے کریں گے خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے ساتھ ہو گی اور اگر وہ کبھی غلطی بھی کریں تو خدا ان کی اصلاح کا خود ذمہ دار ہو گا گویا نظام کے متعلق خلفاء کے اعمال کے ذمہ دار خلفاء نہیں بلکہ خدا ہے۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفاء خود قائم کیا کرتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے یعنی خلفاء غلطی نہیں کر سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یا تو انہی کی زبان سے یا عمل سے خدا تعالیٰ اس غلطی کی اصلاح کرا دے گا یا اگر ان کی