اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 476 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 476

تاب بدر جلد 4 476 خطبے میں میں نے بیان کیا تھا۔گو احساس کے باوجود میں نے حوالے بھیجنے والوں کو ذکر تو نہیں کیا لیکن ریسرچ سیل میں ہمارے کام کرنے والوں کو خود ہی احساس ہو گیا اور انہوں نے یہ درستی بھیجی اور اس سے بہر حال میری یہ غلط فہمی جو مجھے بھی تھی وہ بھی دور ہو گئی۔ماشاء اللہ اپنی طرف سے تو بڑی محنت سے کام کر کے یہ حوالے نکالتے ہیں لیکن بعض دفعہ جلد بازی سے ایسی تحریروں سے گزر جاتے ہیں جو دو صحابہ کے ملتے جلتے واقعات کو ملا دیتی ہیں۔اسی طرح بعض دفعہ عربی عبارتوں کے ترجمے میں بھی الفاظ کا صحیح چناؤ نہ ہونے کی وجہ سے حقیقت واضح نہیں ہوتی۔بہر حال اس حوالے سے اب انہوں نے خود ہی درستی کر کے بھجوائی ہے جو میں پہلے بیان کروں گا۔پھر باقی ذکر ہو گا۔27 دسمبر کے خطبے میں حضرت سعد بن عبادہ کے تعارف میں یہ بیان ہوا تھا کہ آنحضور صلی ا ہم نے حضرت سعد اور طبیب بن عمیر کے درمیان مواخات قائم فرمائی جو مکے سے ہجرت کر کے مدینے آئے تھے اور ابن اسحاق کے مطابق رسول اللہ صلی اللی کلم نے حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت ابو ذر غفاری کے در میان مواخات قائم فرمائی تھی لیکن بعض کو اس سے اختلاف بھی ہے اور واقدی نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ اس کے مطابق آنحضرت صلی الم نے مواخات غزوہ بدر سے قبل صحابہ کے درمیان قائم فرمائی تھی۔حضرت ابو ذر غفاری جو اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے اور وہ آئے نہیں تھے اور غزوہ بدر اور احد اور خندق میں بھی شامل نہیں تھے بلکہ وہ ان غزوات کے بعد آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو میں نے یہ بتایا تھا کہ یہ ان کی دلیل ہے۔بہر حال یہ اس طرح نہیں ہے۔مؤاخات کا یہ ذکر در اصل حضرت مُنذر بن عمر و بن خنیس کے ضمن میں تھا۔1123 ریسرچ سیل والوں نے خود ہی لکھا ہے کہ جس کتاب سے یہ لیا گیا ہے وہاں ان کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ کا بھی ذکر تھا تو ریسرچ سیل کی طرف سے سہو ا یہ عبارت حضرت سعد کے ساتھ بھی بیان کر دی گئی جبکہ حضرت منذر بن عمرو کے ذکر میں مواخات کا یہ ذکر ہے اور یہ تفصیل میں گذشتہ سال کے شروع میں 25 جنوری کے خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔بہر حال یہ ایک درستی ہے۔سة غزوہ خندق اور انصار کی غیرت و شجاعت اب آگے جو ذکر چل رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ جب غزوہ خندق کا واقعہ ہوا تو رسول اللہ صلی الی یکم نے عیینہ بن حصن کو مدینہ کی ایک تہائی کھجور اس شرط پر دینے کی پیشکش کے بارے میں سوچا کہ قبیلہ غطفان کے جو لوگ ان کے ہمراہ ہیں وہ انہیں واپس لے جائے۔باقی لوگوں کو چھوڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللی کم نے صرف حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ سے مشورہ طلب کیا۔اس پر ان دونوں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کرنے کا حکم ہوا ہے تو آپ ایسا کر دیں۔اگر ایسا نہیں تو پھر بخدا ہم کچھ نہیں دیں گے سوائے تلوار کے یعنی ہم اپنا حق لیں گے یا جو بھی اس کی سزا ہے وہ ان کو اس منافقت کی یا عہد کی پابندی نہ کرنے کی ملے گی۔رسول اللہ صلی ا ہم نے