اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 475
ناب بدر جلد 4 475 1119 حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میری والدہ کی وفات ہو گئی ہے۔انہوں نے وصیت نہیں کی تھی۔اگر میں ان کی طرف سے صدقہ دوں تو کیا وہ انہیں مفید ہو گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے عرض کیا کہ کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایاپانی پلاؤ ؟ لگتا ہے اس وقت پانی کی کمی تھی۔کافی ضرورت تھی۔بہر حال ایک روایت میں ہے کہ اس پر حضرت سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ ام سعد کی خاطر ہے۔ان کے نام پر وہ جاری کر دیا۔علامہ ابوطیب شمس الحق عظیم آبادی ہیں انہوں نے ابو داؤد کی شرح میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے جو یہ فرمایا کہ سب سے افضل صدقہ پانی ہے یعنی حضرت سعد کو کہا کہ پانی پلاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں پانی کم یاب تھا یا اس لیے کہ پانی کی ضرورت عام طور پر تمام اشیاء کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔1120 پھر لکھتے ہیں کہ پانی کا صدقہ آپ نے اس لیے بھی افضل قرار دیا کیونکہ یہ دینی اور دنیاوی معاملات میں بالخصوص ان گرم ممالک میں سب سے زیادہ نفع رساں چیز ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا کہ اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا۔وہاں مدینے میں پانی افضل ترین تھا۔گرمی کی شدت کی وجہ سے عمومی ضرورت اور پانی کی کم یابی کی وجہ سے اس کو بہت قیمتی سمجھا جاتا تھا۔0 اور پانی کو تو آج بھی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔اس کے لیے حکومتیں بھی کہتی رہتی ہیں۔خیال بھی رکھنا چاہیے۔بہر حال انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا کہ پانی کا کنواں کھود دیا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ جو بنو ساعدہ میں سے تھے ان کی والدہ فوت ہو گئیں اور اس وقت وہ موجود نہ تھے۔وہ نبی کریم صلی علیکم کے پاس آئے انہوں نے کہا یارسول اللہ ! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور میں اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔یہ آنے کے بعد پتا لگا ہو گا۔پہلے شاید میں نے سفر میں کہہ دیا تھا۔بہر حال سفر میں پتا لگا یا آنے کے بعد پتالگا لیکن بہر حال وہ موجود نہیں تھے۔وہ آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں آئے اور اس وقت یہ عرض کیا کہ میں موجود نہیں تھا تو کیا میرا ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرنا ان کو نفع دے گا ؟ آپ صلی اللی کرم نے فرمایا کہ ہاں۔تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! پھر میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میرا باغ مخراف ہے وہ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔1121 صدقہ اور خیرات اور غریبوں کی مدد میں بڑا کھلا دل رکھتے تھے اور بڑا کھلا ہاتھ رکھتے تھے۔1122 ایک حوالہ کی وضاحت گذشتہ سے پہلے خطبے میں حضرت سعد بن عبادہ کا ذکر چل رہا تھا اور کچھ رہ گیا تھا۔آج بھی ان کے ذکر کے حوالے سے ہی بیان کروں گا۔لیکن یہاں بھی ایک حوالے کی درستی کی ضرورت ہے جو گذشتہ