اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 454

اصحاب بدر جلد 4 454 دیکھا تھا کہ وہ دشمن کے نیزوں میں بری طرح گھرے ہوئے تھے۔آپ کے فرمانے پر ایک انصاری صحابی ابی بن کعب گئے اور میدان میں اِدھر اُدھر سعد کو تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔آخر انہوں نے اونچی نہ اونچی آواز میں دینی شروع کیں اور سعد کا نام لے لے کر پکارا مگر پھر بھی کوئی سراغ نہ ملا۔مایوس ہو کر وہ واپس جانے کو تھے کہ انہیں خیال آیا کہ میں آنحضرت صلی علیہ نیم کا نام لے کر تو پکار وں شاید اس طرح پتہ چل جاوے۔پہلے تو خالی نام لے کر پکارا پھر کہا کہ آنحضرت صلی علی کم کا نام لے کے اس طرح پکاروں کہ آنحضرت صلی اللہ ہم نے تمہیں تلاش کرنے کے لیے مجھے بھیجا ہے۔چنانچہ انہوں نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ سعد بن ربیع کہاں ہیں ؟ مجھے رسول اللہ نے ان کی طرف بھیجا ہے۔اس آواز نے سعد کے نیم مردہ جسم میں ایک بجلی کی لہر دوڑا دی۔لاشوں کے بیچ میں نیم مردہ پڑے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی علیہم کا نام سنا تو ایک دم جسم میں جنبش پید اہوئی اور انہوں نے چونک کر مگر نہایت دھیمی آواز میں جواب دیا۔کون ہے ؟ میں یہاں ہوں۔ابی بن کعب نے غور سے دیکھا تو تھوڑے فاصلہ پر مقتولین کے ایک ڈھیر میں سعد کو پایا جو اس وقت نزع کی حالت میں جان توڑ رہے تھے۔ابی بن کعب نے ان سے کہا کہ مجھے آنحضرت صلی لی ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمہاری حالت سے آپ کو اطلاع دوں۔سعد نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی ا یکم سے میر اسلام عرض کرنا اور کہنا کہ خدا کے رسولوں کو اُن کے متبعین کی قربانی اور اخلاص کی وجہ سے جو ثواب ملا کرتا ہے خدا آپ کو وہ ثواب سارے نبیوں سے بڑھ چڑھ کر عطا فرمائے اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور میرے بھائی مسلمانوں کو بھی میر اسلام پہنچانا اور میری قوم سے کہنا کہ اگر تم میں زندگی کا دم ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی ال ولم کو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو خدا کے سامنے تمہارا کوئی عذر نہیں ہو گا۔یہ کہہ کر سعد نے جان دے دی۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اس واقعہ کا ذکر اپنے الفاظ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ 1073 ” جنگ احد کا ایک واقعہ ہے۔جنگ کے بعد آنحضرت صلی علی رام نے حضرت ابی ابن کعب کو فرمایا کہ جاؤ اور زخمیوں کو دیکھو۔وہ دیکھتے ہوئے حضرت سعد بن ربیع کے پاس پہنچے جو سخت زخمی تھے اور آخری سانس لے رہے تھے۔انہوں نے ان سے کہا کہ اپنے متعلقین اور اعزاء“ عزیزوں کو اگر کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دے دیں۔حضرت سعد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں منتظر ہی تھا کہ کوئی مسلمان ادھر آئے تو پیغام دوں۔تم میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وعدہ کرو کہ میرا پیغام ضرور پہنچا دو گے اور اس کے بعد انہوں نے جو پیغام دیاوہ یہ تھا کہ میرے بھائی مسلمانوں کو میر اسلام پہنچا دینا اور میری قوم اور میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریم ملی لی نام ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں اور ہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔اب ہم جاتے ہیں۔“ ہم تو جارہے ہیں۔اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔”اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپرد کرتے ہیں۔ایسانہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھاؤ۔“ حضرت مصلح موعودؓ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”دیکھو ایسے وقت میں جب