اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 453
ب بدر جلد 4 453 دیکھ بھال شروع تھی۔جو نظارہ اس وقت، یعنی جب جنگ ختم ہو گئی، مسلمانوں کے سامنے تھاوہ خون کے آنسو رلانے والا تھا۔آنحضرت صلی اللہ ہم زخمی بھی تھے لیکن آپ پھر بھی میدان میں آگئے۔شہداء کی نعشوں کی دیکھ بھال شروع ہوئی، کس طرح تدفین کرنی ہے۔زخمیوں کو سنبھالنے کی طرف توجہ ہوئی تو بہر حال اس وقت جو نظارہ مسلمانوں کے سامنے تھا وہ ایسا خوفناک تھا کہ کہتے ہیں کہ خون کے آنسو رلانے والا تھا۔ستر مسلمان خاک و خون میں لتھڑے ہوئے میدان میں پڑے تھے اور عرب کی وحشیانہ رسم ممثلہ کا مہیب نظارہ پیش کر رہے تھے۔یعنی نہ صرف یہ کہ شہید ہوئے تھے بلکہ ممثلہ کیا گیا تھا۔ان کے اعضاء کاٹے گئے تھے۔ان کی شکلوں کو بگاڑا گیا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ ان مقتولین میں صرف چھ مہاجر تھے اور باقی سب انصار سے تعلق رکھتے تھے۔قریش کے مقتولوں کی تعداد تئیس تھی۔جب آنحضرت صلی الله علم اپنے چا اور رضاعی بھائی حمزہ بن عبد المطلب کی نعش کے پاس پہنچے تو بے خود سے ہو کر رہ گئے کیونکہ ظالم ہند جو زوجہ ابوسفیان تھی، نے ان کی نعش کو بری طرح بگاڑا ہوا تھا۔تھوڑی دیر تک تو آپ خاموشی سے کھڑے رہے اور آپ کے چہرے سے غم و غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ایک لمحہ کے لیے آپ کی طبیعت اس طرف بھی مائل ہوئی کہ مکہ کے ان وحشی درندوں کے ساتھ جب تک انہی کا سا سلوک نہ کیا جائے گا وہ غالباً ہوش میں نہیں آئیں گے۔ان کو سبق نہیں ملے گا مگر آپ اس خیال سے رک گئے اور صبر کیا بلکہ اس کے بعد آپ صلی یہ ہم نے مثلہ کی جو رسم تھی، شکلوں کو بگاڑنے والی رسم، اعضاء کاٹنے والی رسم اس کو اسلام میں ہمیشہ کے لیے ممنوع قرار دے دیا اور فرمایا دشمن خواہ کچھ کرے تم اس قسم کے وحشیانہ طریق سے بہر حال بازر ہو اور نیکی اور احسان کا طریق اختیار کرو۔آپ کی پھوپھی صفیہ بنت عبد المطلب اپنے بھائی حمزہ سے بہت محبت رکھتی تھیں۔وہ بھی مسلمانوں کی ہزیمت کی خبر سن کر مدینہ سے نکل کے آئیں۔آنحضرت صلی الم نے ان کے صاحبزادے زبیر بن العوام سے فرمایا کہ اپنی والدہ کو ماموں کی نعش نہ دکھانا مگر بہن کی محبت کب چین لینے دیتی تھی۔بیٹے نے تو کہا کہ حضرت حمزہ کی نعش نہ دیکھیں کیونکہ مثلہ کیا ہوا ہے۔چہرہ بگاڑا ہوا ہے۔انھوں نے اصرار کے ساتھ کہا کہ مجھے حمزہ کی نعش دکھا دو۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ صبر کروں گی اور کوئی جزع فزع کا کلمہ منہ سے نہیں نکالوں گی۔چنانچہ وہ گئیں اور بھائی کی نعش دیکھ کر إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن پڑھتی ہوئی خاموش ہو گئیں۔الله پھر لکھتے ہیں کہ قریش نے دوسرے صحابہ کی نعشوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی ال نیم کے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن بخش کی نعش کو بھی بری طرح بگاڑا گیا تھا۔جوں جوں آنحضرت صلی علیم ایک نعش سے ہٹ کر دوسری نعش کی طرف جاتے تھے آپ کے چہرے پر غم والم کے آثار زیادہ ہوتے جاتے تھے۔غالباً اسی موقعے پر آپ صلی للی کرم نے فرمایا کہ کوئی جا کر دیکھے کہ سعد بن الربیع رئیس انصار کا کیا حال ہے۔آیا وہ زندہ ہیں یا شہید ہو گئے ہیں ؟ کیونکہ میں نے لڑائی کے وقت