اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 435 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 435

تاب بدر جلد 4 435 فتح کیا تو رعایا کا خیال نہیں رکھا لیکن مسلمانوں نے جب شہر فتح کیے تو وہاں کے رہنے والوں کا پہلے سے بڑھ کر خیال رکھا گیا۔پھر تعمیر کوفہ ہے۔مدائن کی آب و ہوا عربوں کی طبیعت کے موافق نہ آئی تو حضرت سعد نے حضرت عمر کی اجازت سے ایک نیا شہر بسایا جس میں مختلف عرب قبائل کو الگ الگ محلوں میں آباد کیا اور شہر کے درمیان ایک بڑی مسجد بنوائی جس میں چالیس ہزار نمازی ایک وقت میں نماز پڑھ سکتے تھے۔کوفہ دراصل فوجی چھاؤنی تھا جس میں ایک لاکھ سپاہی بسائے گئے تھے۔اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ حضرت سعد نے ایک عرصہ تک مدائن میں قیام کرنے کے بعد محسوس کیا کہ یہاں کی آب و ہوانے اہل عرب کا رنگ و روپ بالکل بدل دیا ہے۔حضرت عمر کو اس سے مطلع کیا تو حکم آیا کہ عرب کی سرحد میں کوئی مناسب سر زمین تلاش کر کے ایک نیا شہر بسائیں اور عربی قبائل کو آباد کر کے اس کو مرکز حکومت قرار دیں۔حضرت سعد نے اس حکم کے مطابق مدائن سے نکل کر ایک موزوں جگہ منتخب کر کے کوفہ کے نام سے ایک وسیع شہر کی بنیاد ڈالی۔عرب کے جُدا جُدا قبیلوں کو جدا جدا محلوں میں آباد کیا۔وسط میں ایک عظیم الشان مسجد بنوائی جس میں تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی۔مسجد کے قریب ہی بیت المال کی عمارت اور اپنا محل تعمیر کرایا جو قصر سعد کے نام سے مشہور تھا۔1026 پھر معرکہ نهاوند ہے یہاں 21 ہجری میں ایرانیوں نے عراق عجم یعنی عراق کا وہ حصہ جو فارسیوں کے پاس تھا اس میں مسلمانوں کے خلاف جنگی تیاریاں کیں اور مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے واپس لینے کی غرض سے نہاوند کے مقام پر مسلمانوں کے خلاف ڈیڑھ لاکھ ایرانی جنگجو اکٹھے ہوئے۔حضرت سعد نے حضرت عمرؓ کو اطلاع دی تو آپ نے اہل الرائے کے مشورے سے ایک عراقی حضرت نعمان بن مقرن مُزئی کو مسلمان فوج کا قائد مقرر فرمایا۔حضرت نعمان اس وقت کسکر میں تھے۔کسکر نہروان سے لے کر بصرہ کے قریب دریائے دجلہ کے دہانے تک کا علاقہ ہے جس میں بیسیوں گاؤں اور قصبے ہیں۔بہر حال حضرت عمر نے انہیں نہاوند پہنچنے کا حکم دیا۔ڈیڑھ لاکھ ایرانیوں کے مقابل پر مسلمانوں کی تعداد تیس ہزار تھی۔حضرت نعمان نے تشکر کی صفوں میں پھر کر انہیں ہدایات دیں اور پھر کہا کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو لشکر کے قائد حذیفہ ہوں گے اور اگر وہ شہید ہوں تو امیر لشکر فلاں ہو گا اور اس طرح ایک ایک کر کے انہوں نے سات آدمیوں کا نام لیا۔اس کے بعد اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اپنے دین کو معزز فرما اور اپنے بندوں کی مدد فرما اور نعمان کو آج سب سے پہلے شہادت کا درجہ عطا فرما۔ایک دوسری روایت کے مطابق انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ آج میری آنکھ ایسی فتح کے ذریعہ ٹھنڈی کر جس میں اسلام کی عزت ہو اور مجھے شہادت عطا ہو۔جنگ شروع ہوئی۔مسلمان اس بہادری کے ساتھ لڑے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور اسی جنگ میں حضرت نعمان شہید ہو گئے۔ابو لولوة فيروز اسی جنگ میں قید ہوا اور وہ غلام بن