اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 434

اصحاب بدر جلد 4 434 اس وقت تک محفوظ تھی۔حضرت سعد نے جب وہاں پہنچے اور قید خانے کو دیکھا تو قرآن کریم کی آیت پڑھی۔تِلْكَ الْآيَامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: 141) یعنی یہ دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے در میان ادلتے بدلتے رہتے ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔کوئی سے آگے بڑھے تو بہترہ شنیر نامی ایک جگہ پر پہنچے۔معجم البلدان جو شہروں کی مجسم ہے اس کے مطابق اس کا نام بھر سیز ہے۔بھر سیز دریائے دجلہ کے مغرب میں واقع عراق کے شہر مدائن کے قریب بغداد کے نواحی علاقوں میں سے ایک مقام کا نام ہے۔یہاں کسریٰ کا شکاری شیر رہتا تھا۔حضرت سعد کا لشکر قریب پہنچا تو انہوں نے اس درندے کو لشکر پر چھوڑ دیا۔شیر گرج کر لشکر پر حملہ آور ہوا۔حضرت سعد کے بھائی ہاشم بن ابی وقاص لشکر کے ہر اول دستے کے افسر تھے۔انہوں نے شیر پر تلوار سے ایساوار کیا کہ شیر وہیں ڈھیر ہو گیا۔مدائن کے سفید محلات پھر اسی جنگ میں مدائن کا معرکہ بھی ہے۔مدائن کسری کا پایہ تخت تھا۔یہاں پر اس کے سفید محلات تھے۔مسلمانوں اور مدائن کے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا۔ایرانیوں نے دریا کے تمام پل توڑ دیے۔حضرت سعد نے فوج سے کہا کہ مسلمانو! دشمن نے دریا کی پناہ لے لی ہے۔آؤ اس کو تیر کر پار کریں اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔حضرت سعد کے سپاہیوں نے اپنے قائد کی پیروی کرتے ہوئے گھوڑے دریا میں ڈال دیے اور اسلامی فوجیں دریا کے پار اتر گئیں۔ایرانیوں نے یہ حیران کن منظر دیکھا تو خوف سے چلانے لگے اور بھاگ کھڑے ہوئے کہ دیو آگئے۔دیو آگئے۔مسلمانوں نے آگے بڑھ کر شہر اور کسریٰ کے محلات پر قبضہ کر لیا اور اس طرح رسول اللہ صلی للی کم کی پیشگوئی پوری ہو گئی جو آپ صلی للی کرم نے غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے پتھر پر کدال مارتے ہوئے فرمائی تھی کہ مجھے مدائن کے سفید محلات گرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ان محلات کو سنسان حالات میں دیکھ کر حضرت سعد نے سورہ دخان کی یہ آیات كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنْتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَكِهِينَ كَذلِكَ وَ أَوْرَثْنَهَا قَوْمًا أخَرِينَ ( الدخان 26-29) کتنے ہی باغات اور چشمے ہیں جو انہوں نے پیچھے چھوڑے اور کھیتیاں اور عزت و احترام کے مقام بھی اور ناز و نعمت جس میں وہ مزے اڑایا کرتے تھے۔اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو اس نعمت کا وارث بنادیا۔بہر حال اس کے بعد حضرت سعد نے حضرت عمر کی خدمت میں لکھ کر مزید آگے بڑھنے کی اجازت چاہی جس پر حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ سر دست اسی پر اکتفا کرو اور مفتوحہ علاقے کے نظم و نسق کی طرف توجہ کی جائے۔چنانچہ حضرت سعد نے مدائن کو مرکز بنا کر نظم و نسق کو مستحکم کرنے کی کوشش شروع کی اور اس کام کو بخوبی نبھایا۔آپ نے عراق کی مردم شماری اور پیمائش کروائی۔رعایا کے آرام و آسائش کا انتظام کیا اور اپنے حسن تدبر اور حسن عمل سے ثابت کیا کہ آپ کو اللہ نے جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیتوں سے بھی بہرہ ور فرمایا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے