اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 416
اصحاب بدر جلد 4 416 اے حرا! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ کوئی نہیں ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی یی کم حرا پہاڑ پر تھے کہ وہ ملنے لگا۔اس پر رسول للہ صلی علیم نے فرمایا اے حرا ! ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر نبی یا صدیق یا شہید کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔اس پہاڑ پر اس وقت نبی کریم صلی اللی کم تھے اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ بن عبید الله حضرت زبیر بن العوام، حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔یہ مسلم کی روایت ہے۔976 پہلا خون جو اسلام میں بہایا گیا اسلام کے ابتدائی ایام میں جب مسلمان چھپ کر نمازیں ادا کیا کرتے تھے تو ایک مرتبہ حضرت سعد کے کی ایک گھائی میں کچھ صحابہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ وہاں مشرکین آپہنچے اور انہوں نے مسلمانوں کا مذاق اڑانا شروع کیا اور ان کے دین یعنی اسلام میں عیب نکالنا چا ہے یہاں تک کہ لڑائی تک نوبت پہنچ گئی۔حضرت سعد نے ایک مشرک کے سر پر اونٹ کی ہڈی اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا۔پس یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا تھا۔977 بائیکاٹ اور شعب ابی طالب میں تکالیف اٹھانے والے مکے میں جب کفار نے مسلمانوں کے ساتھ بائیکاٹ کیا اور ان کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا گیا تو وہ مسلمان جو ان تکالیف کا شکار ہوئے ان میں سے ایک حضرت سعد بن ابی وقاص بھی تھے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین ہم میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح لکھا ہے کہ: ”جو جو مصائب اور سختیاں ان ایام میں ان محصورین کو اٹھانی پڑیں ان کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔صحابہ کا بیان ہے کہ بعض اوقات انہوں نے جانوروں کی طرح جنگلی درختوں کے پتے کھا کھا کر گزارہ کیا۔سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت ان کا پاؤں کسی ایسی چیز پر جاپڑا جو تر اور نرم معلوم ہوتی تھی غالباً کھجور کا کوئی ٹکڑا ہو گا ” اس وقت ان کی بھوک کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فوراً اسے اٹھا کر نگل لیا اور وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے آج تک پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ایک دوسرے موقعہ پر بھوک کی وجہ سے ان کا یہ حال تھا کہ انہیں ایک سوکھا ہوا چھڑ از مین پر پڑا ہوا مل گیا تو اسی کو انہوں نے پانی میں نرم اور صاف کیا اور پھر بھون کر کھایا اور تین دن اسی غیبی ضیافت میں بسر کیے۔ہجرت مدینہ اور مواخات جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا تو حضرت سعد نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں اپنے مشرک بھائی معتبہ بن ابی وقاص کے ہاں قیام کیا۔مشبہ سے مکہ میں ایک خون ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ مدینہ میں آکر آباد ہو گیا تھا۔حضرت سعد اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھے۔آپ رسول اللہ صلی ال نیم کی مدینہ آمد سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔980 979 978"